اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 408

اصحاب بدر جلد 3 408 حضرت علی جانے کا کہا اور وہ چلے گئے۔مشرکوں نے آپ کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور زدو کوب کیا۔پکڑ کر خانہ کعبہ میں لے گئے اور کچھ دیر محبوس رکھا۔پھر آپ کو چھوڑ دیا۔797 پھر ایک اور سیرت کی کتاب میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم کے ارشاد کے مطابق حضرت علی تین دن کے بعد اہل مکہ کی امانتیں لوٹا کر ہجرت کر کے نبی کریم کے پاس پہنچے اور آپ کے ساتھ قبا میں کلثوم بن ہرم کے ہاں قیام پذیر تھے۔798 سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کا جو ہجرت کے دوران ہوا اس کا ذکر یوں آیا ہے کہ ”رات کا تاریک وقت تھا اور ظالم قریش جو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اپنے خونی ارادے کے ساتھ آپ کے مکان کے ارد گرد جمع ہو کر آپ کے مکان کا محاصرہ کر چکے تھے اور انتظار تھا کہ صبح ہو یا آپ اپنے گھر سے نکلیں تو آپ پر ایک دم حملہ کر کے قتل کر دیا جاوے۔آنحضرت صلی علیہم کے پاس بعض کفار کی امانتیں پڑی تھیں کیونکہ باوجود شدید مخالفت کے اکثر لوگ اپنی امانتیں آپ کے صدق و امانت کی وجہ سے آپ کے پاس رکھوا دیا کرتے تھے۔لہذا آپ نے حضرت علی کو ان امانتوں کا حساب کتاب سمجھا دیا اور تاکید کی کہ بغیر امانتیں واپس کیسے مکہ سے نہ نکلنا۔اس کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور تسلی دی کہ انہیں خدا کے فضل سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔وہ لیٹ گئے اور آپ نے اپنی چادر جو سرخ رنگ کی تھی ان کے اوپر اوڑھا دی۔اس کے بعد آپ اللہ کا نام لے کر اپنے گھر سے نکلے۔اس وقت محاصرین آپ کے دروازے کے سامنے موجود تھے مگر چونکہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی الیم اس قدر اول شب میں ہی گھر سے نکل آئیں گے وہ اس وقت اس قدر غفلت میں تھے کہ آپ ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے۔آپ صلی علیہ کی ان مخالفین کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے درمیان ے نکل گئے اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔اب آنحضرت صلی اللہ کی خاموشی کے ساتھ مگر جلد جلد مکہ کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں آبادی سے باہر نکل گئے اور غارِ ثور کی راہ لی۔حضرت ابو بکر کے ساتھ پہلے ہی تمام بات طے ہو چکی تھی۔وہ بھی راستہ میں مل گئے۔غار ثور جو اسی واقعہ کی وجہ سے اسلام میں ایک مقدس یاد گار سمجھی جاتی ہے مکہ سے جانب جنوب یعنی مدینہ سے مختلف جانب تین میل کے فاصلہ پر ایک بنجر اور ویران پہاڑی کے اوپر خاصی بلندی پر واقع ہے اور اس کا راستہ بھی بہت دشوار گذار ہے۔مدینے کی طرف نہیں ہے بلکہ مخالف سمت میں ہے۔”وہاں پہنچ کر پہلے حضرت ابو بکر نے اندر گھس کر جگہ صاف کی اور پھر آپ بھی اندر تشریف لے گئے۔دوسری طرف وہ قریش جو آپ کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھتے تھے تو حضرت علی کو آپ کی جگہ پر لیٹا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے تھے لیکن صبح ہوئی تو انہیں علم ہوا کہ ان کا شکار ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔اس پر وہ ادھر اُدھر بھاگے، مکہ کی گلیوں میں صحابہ کے مکانات پر تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔اس غصہ میں انہوں نے حضرت علی کو پکڑا اور کچھ مارا پیٹا۔7994 الله