اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 402

تاب بدر جلد 3 402 حضرت علی الله ابو طالب حضرت خدیجہ کے اسلام لانے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے ایک دن بعد آئے۔راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی علیہ کم اور حضرت خدیجہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو حضرت علی نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی علیہم نے فرمایا یہ اللہ کا دین ہے جو اس نے اپنے لیے چن لیا ہے اور رسولوں کو اس کے ساتھ مبعوث فرمایا۔پس میں تمہیں اللہ اور اس کی عبادت کی طرف اور لات اور عزیٰ کے انکار کی طرف بلاتا ہوں۔اس پر حضرت علی نے آپ سے کہا یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں سنا۔میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتا جب تک ابو طالب سے اس کا ذکر نہ کر لوں۔رسول اللہ صلی علیم نے نا پسند فرمایا کہ آپ کے اعلان نبوت سے پہلے یہ راز کھل جائے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اے علی ! اگر تم اسلام نہیں قبول کرتے تو اس بات کو پوشیدہ رکھو۔پس حضرت علی نے وہ رات گزاری پھر اللہ نے حضرت علی کے دل میں اسلام کو داخل کر دیا اور اگلی صبح رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ! رات کو آپ نے میرے سامنے کیا چیز پیش فرمائی تھی۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا : تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور لات اور عزیٰ کا انکار کرو اور اللہ تعالیٰ کے شریکوں سے براءت کا اظہار کرو۔حضرت علی نے ایسا ہی کیا اور اسلام قبول کر لیا۔حضرت علی ابو طالب کے خوف سے پوشیدہ طور پر آپ صلی علیہم کے پاس آیا کرتے تھے اور انہوں نے اپنا اسلام مخفی رکھا۔786 حالانکہ رہتے بھی وہیں تھے کیونکہ روایتوں میں تو یہی ہے۔بہر حال اسد الغابہ کی یہ روایت ہے۔حضرت خدیجہ کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی تھے۔اس وقت حضرت علی کی عمر تیرہ برس تھی۔بعض دوسری روایات میں پندرہ سولہ اور اٹھارہ سال عمر کا بھی ذکر ملتا ہے۔سیرت نگاروں نے یہ بحث بھی اٹھائی ہے کہ مردوں میں سے پہلے کون ایمان لایا تھا۔حضرت ابو بکر یا حضرت علی یا حضرت زید۔بعض اس کا یہ حل نکالتے ہیں کہ بچوں میں سے 787 حضرت علی اور بڑوں میں سے حضرت ابو بکر اور غلاموں میں سے حضرت زید اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اپنا ایک نقطہ نظر پیش کیا ہے۔آپ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ کے بعد مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق مورخین میں اختلاف ہے۔بعض حضرت ابو بکر عبد اللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔بعض حضرت علی علما جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی علیم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کا۔مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔حضرت علی اور زید بن حارثہ آنحضرت صلی علیم کے گھر کے آدمی تھے اور آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔آنحضرت صلی علیم کا فرمانا اور ان کا ایمان لانا، بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں۔“ یعنی آنحضرت صلی علی یکم کا فرمانا اور ان کا ایمان لانا، سے کوئی نہیں فرق پڑتا ایک ہی