اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 401
اصحاب بدر جلد 3 401 حضرت علی انعام اور خیر وبرکت کا باعث بنا۔حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے۔وہاں قحط پڑا تھا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ یکم نے اپنے چچا حضرت عباس سے جو بنو ہاشم میں زیادہ خوشحال تھے فرمایا کہ اے عباس ! آپ کا بھائی ابو طالب کثیر العیال ہے۔اس قحط سے لوگوں کی جو حالت ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔آپ میرے ساتھ چلیں تا کہ ہم ان کی عیال داری میں کچھ کمی کر دیں۔آنحضرت صلی انہیں تم نے فرمایا کہ ان کے بیٹوں میں سے ایک میں لے لیتا ہوں اور حضرت عباس کو کہا کہ ایک آپ لے لیں۔آپ نے فرمایا ہم ان دونوں کے لیے حضرت ابو طالب کی طرف سے کافی ہو جائیں گے۔حضرت عباس نے کہا ٹھیک ہے۔دونوں حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور کہا ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی عیال داری میں کچھ تخفیف کر دیں یہاں تک کہ لوگوں کی وہ حالت جاتی رہے جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں۔حضرت ابو طالب نے کہا کہ عقیل کو میرے پاس رہنے دو اس کے علاوہ جو مرضی کرو۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ نیلم نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے ساتھ ملالیا اور حضرت عباس نے جعفر کو لیا اور اسے اپنے ساتھ ملالیا۔حضرت علی رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی علی کم کو بطور نبی مبعوث فرما دیا۔پھر حضرت علی نے آپ کی پیروی اختیار کی اور آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی اور حضرت جعفر حضرت عباس کے پاس رہے یہاں تک کہ انہوں نے یعنی حضرت جعفر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور وہ یعنی حضرت عباس پھر حضرت جعفر سے بے نیاز ہو گئے۔یہ پہلی تو تاریخ طبری کی روایت تھی۔اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ”ابو طالب ایک بہت با عزت آدمی تھے مگر غریب تھے اور بڑی تنگی سے ان کا گزارہ چلتا تھا۔خصوصاً ان ایام میں جب کہ مکہ میں ایک قحط کی صورت تھی۔ان کے دن بہت ہی تکلیف میں کٹتے تھے۔آنحضرت صلی علیہم نے جب اپنے چچا کی اس تکلیف کو دیکھا تو اپنے دوسرے چچا عباس سے ایک دن فرمانے لگے کہ چچا ! آپ کے بھائی ابو طالب کی معیشت تنگ ہے۔کیا اچھا ہو کہ ان کے بیٹوں میں سے ایک کو آپ اپنے گھر لے جائیں اور ایک کو میں لے آؤں۔عباس نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور پھر دونوں مل کر ابو طالب کے پاس گئے اور ان کے سامنے یہ درخواست پیش کی۔ان کو اپنی اولاد میں عقیل سے بہت محبت تھی۔“ ابو طالب کو عقیل سے بہت محبت تھی۔” کہنے لگے عقیل کو میرے پاس رہنے دو اور باقیوں کو اگر تمہاری خواہش ہے تو لے جاؤ۔چنانچہ جعفر کو عباس اپنے گھر لے آئے اور علی کو آنحضرت صلی علی کی اپنے پاس لے آئے۔حضرت علی کی عمر اس وقت قریباً چھ سات سال کی تھی۔اس کے بعد علی ہمیشہ آنحضرت صلی الم کے پاس رہے۔“ 784 785❝ قبول اسلام حضرت علی کے قبول اسلام کے بارے میں ابن اسحاق سے یہ روایت ہے کہ حضرت علی بن