اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 398

اصحاب بدر جلد 3 398 حضرت عثمان بن عفان قرآن کے بعض معارف سیکھے ہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان رکوعوں میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ انصار میں خلافت نہ ہو گی بلکہ مہاجرین میں۔پھر یہ بتایا کہ ان کا مقابلہ مسلمان بھی کریں گے اور کفار بھی۔چنانچہ حضرت ابو بکر کی مخالفت اسی طرح ہوئی۔بعض لوگ خلافت کے قائل نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال دی کہ ایک وہ جو کلر کے بخارات کو پانی سمجھے۔دوسرے وہ جو شریعت کے سمندر میں بھی ہو کر مقابلہ کریں گے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ انجام یہ کہ چرند پرند ان کا گوشت کھائیں گے۔خلفائے راشدین میں سے حضرت ابو بکر کے لیے بہت مشکلات تھے۔لشکر حضرت اسامہ کے ساتھ روانہ کر دیا گیا تھا۔ادھر عرب میں جابجا بغاوت پھیل گئی۔مکہ میں لوگ آمادہ بغاوت تھے کہ وہاں ایک عقل مند انسان پہنچ گیا، اس نے مکہ والوں کو کہا کہ تم ایمان لانے میں سب سے پیچھے تھے اب مرتد ہونے میں سب سے پہلے ہو۔اس پر وہ باز آگئے۔پھر آپ فرماتے ہیں اِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ (النور (49) میں جس گروہ کا ذکر ہے وہ نہ حضرت ابو بکر کے زمانے میں، نہ حضرت عمر کے زمانے میں ، نہ حضرت عثمان و علی کے زمانے میں غرض کبھی بھی مظفر و منصور نہیں ہوا۔یہ گروہ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔مگر دوسرا فریق سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (القر و 286) کہنے والا ہے۔مظفر و منصور رہا۔ہمیشہ کامیاب رہا۔چنانچہ قرآن مجید نے فرمایا ہے وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره: 6) 773 کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک۔۔۔774<< حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ: میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدانہ ہو۔وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔پھر آپ فرماتے ہیں ”یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق عمر اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ یعنی حضرت عثمانؓ اور حضرت علی مرتضیٰ سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابو بکر جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اگر دین میں بچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لیے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔7756 پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ” بخد ا اللہ تعالیٰ نے شیخین ( ابو بکر و عمر) کو اور تیسرے جو ذوالنورین ہیں ہر ایک کو اسلام کے دروازے اور خیر الانام ( محمد رسول اللہ) کی فوج کے ہر اول دستے بنایا ہے۔پس جو شخص ان کی عظمت سے انکار کرتا ہے اور ان کی قطعی دلیل کو حقیر جانتا ہے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش نہیں آتا بلکہ ان کی تذلیل کرتا اور ان کو برا بھلا کہنے کے درپے رہتا ہے اور زبان درازی کرتا ہے مجھے اس کے بد انجام اور سلب ایمان کا ڈر ہے اور جنہوں نے ان کو دکھ دیا، ان پر لعن کیا اور بہتان لگائے تو دل کی سختی اور خدائے رحمن کا غضب ان کا انجام ٹھہرا۔میر ابارہا کا تجربہ ہے اور میں اس کا