اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 356
اصحاب بدر جلد 3 356 حضرت عثمان بن عفان سے آخرت کے سامان جمع کرو۔یہ دنیا و فنا ہو جائے گی اور آخرت ہی باقی رہے گی۔پس چاہیے کہ فانی چیز تم کو غافل نہ کرے۔باقی رہنے والی چیز کو فانی ہو جانے والی چیز پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یا در کھو اور جماعت کو پراگندہ نہ ہونے دو اور اس نعمت الہی کو مت بھولو کہ تم ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو نجات دے کر بھائی بھائی بنا دیا۔اس کے بعد آپ نے سب کو رخصت کیا اور کہا کہ خدا تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔تم سب اب گھر سے باہر جاؤ اور ان صحابہ کو بھی بلواؤ جن کو مجھ تک آنے نہیں دیا تھا خصوصاً حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر گو۔یہ لوگ باہر آگئے اور دوسرے صحابہ کو بھی بلوایا گیا۔اس وقت کچھ ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اور ایسی افسردگی چھا رہی تھی کہ باغی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔وقتی طور پر ایسے حالات پید اہو گئے۔جب آپ نے کہا کہ باہر جاؤ، یہ لوگ نکلے تو باغیوں نے حملہ نہیں کیا لیکن بہر حال یہ باہر گئے اور بڑے صحابہ کو اکٹھا کیا اور کیوں نہ ہو تاسب دیکھ رہے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم کی جلائی ہوئی ایک شمع اب اس دنیا کی عمر کو پوری کر کے اس دنیا کے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہونے والی ہے۔غرض باغیوں نے زیادہ تعارض نہ کیا اور سب صحابہ جمع ہوئے۔انہوں نے بھی کچھ نہیں کہا۔صحابہ کو جمع ہونے دیا۔جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ گھر کی دیوار پر چڑھے اور فرمایا میرے قریب ہو جاؤ۔جب سب قریب ہو گئے تو فرمایا کہ اے لوگو! بیٹھ جاؤ۔اس پر صحابہ بھی اور مجلس کی ہیبت سے متاثر ہو کر باغی بھی بیٹھ گئے۔جب سب بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل مدینہ ! میں تم کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر تا ہوں اور اس سے دعا کرتاہوں کہ وہ میرے بعد تمہارے لیے خلافت کا کوئی بہتر انتظام فرما دے۔آج کے بعد اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ میرے متعلق کوئی فیصلہ فرما دے، میں باہر نہیں نکلوں گا اور میں کسی کو کوئی ایسا اختیار نہیں دے جاؤں گا کہ جس کے ذریعہ سے دین یا دنیا میں وہ تم پر حکومت کرے اور اس امر کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں گا کہ وہ جسے چاہے اپنے کام کے لیے پسند کرے۔اس کے بعد صحابہ اور دیگر اہل مدینہ کو قسم دی کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرہ عظیم میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں کو چلے جاویں۔آپ کے اس حکم نے صحابہ میں ایک بہت بڑا اختلاف پیدا کر دیا۔ایسا اختلاف کہ جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔صحابہ ماننے کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہ تھے مگر آج اس حکم کے ماننے میں ان میں سے بعض کو اطاعت نہیں، غداری کی بو نظر آتی تھی کہ ہم نے مانا تو یہ اطاعت نہیں ہے غداری ہے۔بعض صحابہ نے اطاعت کے پہلو کو مقدم سمجھ کر بادلِ نخواستہ آئندہ کے لیے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اور غالباً انہوں نے سمجھا کہ ہمارا کام صرف اطاعت ہے۔یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس حکم پر عمل کرنے کے کیا نتائج ہوں گے۔مگر بعض صحابہ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بیشک خلیفہ کی اطاعت فرض ہے مگر جب خلیفہ یہ حکم دے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ تو اس کے یہ معنی ہیں کہ خلافت سے وابستگی چھوڑ دو۔پس یہ اطاعت در حقیقت بغاوت پیدا کرتی ہے۔اور وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ