اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 346
اصحاب بدر جلد 3 346 حضرت عثمان بن عفان اطاعت یاکسی اور کی اطاعت کے لیے لوگوں کو بلاوے اس پر خدا کی لعنت ہو۔تم ایسے شخص کو قتل کر دو خواہ کوئی ہو۔یہ مسلم کی روایت ہے۔اور حضرت عمر کا یہ قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لیے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں میں شریک نہ ہوں۔یعنی سوائے حکومت کے اشارے کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔حضرت عثمان نے صحابہ کا یہ فتویٰ سن کر فرمایا کہ نہیں۔ہم ان کو معاف کریں گے اور ان کے عذروں کو قبول کریں گے اور اپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھاویں گے اور کسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے جب تک کہ وہ کسی حد شرعی کو نہ توڑے یا اظہار کفر نہ کرے۔پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھے سے بحث کریں گے تاکہ واپس جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان سے بحث کی اور وہ ہار گئے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں یعنی حضرت عثمان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز ادا کی۔ایک سفر کے دوران میں مکہ میں پوری نماز ادا کی حالانکہ رسول کریم صلی علیہ کم سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے۔حضرت عثمان کہتے ہیں مگر میں نے صرف منی میں پوری نماز پڑھی ہے اور وہ بھی دو وجہ سے۔ایک تو یہ کہ میری وہاں جائیداد تھی اور میں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لیے آئے ہیں۔ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تو دور کعت پڑھتا ہے اور اس لیے نماز دور کعت ہی ہو گی۔کیا یہ بات درست نہیں؟ حضرت عثمان نے صحابہ سے پوچھا کیا یہ بات درست نہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔پھر حضرت عثمان نے فرمایا: دوسرا الزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رکھ مقرر کرنے کی بدعت جاری کی ہے حالانکہ یہ الزام غلط ہے۔رکھ مجھ سے پہلے مقرر کی گئی تھی۔حضرت عمرؓ نے اس کی ابتدا کی تھی اور میں نے صرف صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا تھا۔جو سرکاری چراگاہ تھی جہاں جانور رکھے جاتے تھے اس کو وسیع کیا تھا اور پھر رکھ میں جو زمین لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیں ہے۔یہ سرکاری زمین تھی اور میرا اس میں کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔میرے تو صرف دو اونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ منتخب ہوا تھا اس وقت میں سب عرب سے زیادہ مالدار تھا۔تو حضرت عثمان نے کہا اس وقت میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں اور میں سب سے زیادہ مالدار تھا جب خلیفہ منتخب ہو ا ہوں۔اب صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں درست ہے۔پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حاکم بناتا ہے حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بنا تا ہوں جو نیک صفات، نیک اطوار ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم صلی علیکم پر اسامہ بن زید کے سردار لشکر مقرر کرنے پر اس سے زیادہ اعتراض کیے گئے تھے جو اب مجھ پر کیسے جاتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں درست ہے۔پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر