اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 325

حاب بدر جلد 3 325 حضرت عثمان بن عفان تک مکہ سے واپس آچکے تھے یعنی کفار نے جو ان کو روکا تھا تو اس وقت چھوڑ دیا تھا۔انہوں نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور ابو عبیدہ تھے۔معاہدہ کی تکمیل کے بعد سہیل بن عمر و معاہدہ کی ایک نقل لے کر مکہ کی طرف واپس لوٹ گیا اور دوسری نقل آنحضرت صلی علیکم کے پاس رہی۔629 حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بعض ارد گرد کے لوگوں نے مکہ والوں سے اصرار کیا کہ یہ لوگ صرف طواف کے لیے آئے ہیں آپ ان کو کیوں روکتے ہیں ؟ مگر مکہ کے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔اس پر بیرونی قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریق بتاتا ہے کہ آپ کو شرارت مد نظر ہے، صلح مد نظر نہیں۔اس لیے ہم لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔یہ ایک نئی بات ہے جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی ہے کہ ارد گرد کے قبائل کا بھی پریشر (pressure) تھا۔اس پر مکہ کے لوگ ڈر گئے اور انہوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتے کی کوشش کریں گے۔جب اس امر کی اطلاع رسول کریم صلی علی کم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عثمان کو جو بعد میں آپ کے تیسرے خلیفہ ہوئے، مکہ والوں سے بات چیت کرنے کے لیے بھیجا۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ مکہ میں ان کی بڑی وسیع رشتہ داری تھی۔ان کے رشتہ دار ان کے گرد اکٹھے ہو گئے اور ان سے کہا کہ آپ طواف کر لیں لیکن محمد رسول الله صلى ال یکم اگلے سال آکر طواف کریں مگر حضرت عثمان نے کہا کہ میں اپنے آقا کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔چونکہ رؤسائے مکہ سے آپ کی گفتگو لمبی ہو گئی تو مکہ میں بعض لوگوں نے شرارت سے یہ خبر پھیلا دی کہ عثمان کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ خبر پھیلتے پھیلتے رسول اللہ صلی الی نام تک جا پہنچی۔اس پر رسول اللہ صلی الم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا: سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے۔تم نے سنا ہے کہ عثمان کو مکہ والوں نے مار دیا ہے۔اگر یہ خبر درست نکلی تو ہم بزور مکہ میں داخل ہوں گے۔یعنی ہمارا پہلا ارادہ صلح کے ساتھ مکہ میں داخل ہونے کا تھا، جن حالات میں وہ کیا گیا تھا وہ حالات چونکہ تبدیل ہو جائیں گے اس لیے ہم اس ارادہ کے پابند نہیں رہیں گے۔جو لوگ یہ عہد کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا پڑا تو یا ہم فتح کر کے لوٹیں گے یا ایک ایک کر کے میدان میں مارے جائیں گے وہ اس عہد پر میری بیعت کریں۔آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پندرہ سو زائر جو آپ کے ساتھ آیا تھا یکدم پندرہ سو سپاہی کی شکل میں بدل گیا اور دیوانہ وار ایک دوسرے پر پھاندتے ہوئے انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کے ہاتھ پر دوسروں سے پہلے بیعت کرنے کی کوشش کی۔یہ بیعت تمام اسلامی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور درخت کا عہد نامہ کہلاتی ہے کیونکہ جس وقت یہ بیعت لی گئی اس وقت رسول کریم صلی علیکم ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔جب تک اس بیعت میں شامل ہونے والا آخری آدمی بھی دنیا میں زندہ رہا وہ فخر سے اس بات کا ذکر کیا کرتا تھا کیونکہ پندرہ سو آدمیوں میں سے ایک شخص نے بھی یہ عہد کرنے سے