اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 323

اصحاب بدر جلد 3 323 حضرت عثمان بن عفان عثمان آنحضرت صلی الم کے داماد اور معزز ترین صحابہ میں سے تھے اور مکہ میں بطور اسلامی سفیر کے گئے تھے اور یہ دن بھی اشہرِ حُرم کے تھے، حرمت والا مہینہ تھا اور پھر مکہ خود حرم کا علاقہ تھا۔آنحضرت صلی الیکم نے فوراً تمام مسلمانوں میں اعلان کر کے انہیں ایک بول یعنی کیکر کے درخت کے نیچے جمع کیا اور جب صحابہ جمع ہو گئے تو اس خبر کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو خدا کی قسم! ہم اس جگہ سے اس وقت تک نہیں ملیں گے کہ عثمان کا بدلہ نہ لے لیں۔پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا: آؤ اور میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر جو اسلام میں بیعت کا طریقہ ہے یہ عہد کرو کہ تم میں سے کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا مگر کسی حال میں اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔اس اعلان پر صحابہ بیعت کے لیے اس طرح لیکے کہ ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے اور ان چودہ پندرہ سو مسلمانوں کا کہ یہی اس وقت اسلام کی جمع پونجی تھی، کل مسلمان تھے ، ایک ایک فرد اپنے محبوب آقا کے ہاتھ پر گویا دوسری دفعہ بک گیا۔جب بیعت ہو رہی تھی تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگر وہ یہاں ہو تا تو اس مقدس سودے میں کسی سے پیچھے نہ رہتا لیکن اس وقت وہ خدا اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے۔اس طرح یہ بجلی کا سا منظر اپنے اختتام کو پہنچا۔اسلامی تاریخ میں یہ بیعت بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے یعنی وہ بیعت جس میں مسلمانوں نے خدا کی کامل رضامندی کا انعام حاصل کیا۔قرآن شریف نے بھی اس بیعت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا (افت: 19) یعنی اللہ تعالیٰ خوش ہو گیا مسلمانوں سے جب کہ اے رسول! وہ ایک درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے کیونکہ اس بیعت سے ان کے دلوں کا مخفی اخلاص خدا کے ظاہری علم میں آگیا سو خدا نے بھی ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں ایک قریب کی فتح کا انعام عطا کیا۔صحابہ کرام بھی ہمیشہ اس بیعت کو بڑے فخر اور محبت کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر بعد میں آنے والے لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ تم تو مکہ کی فتح کو فتح شمار کرتے ہو مگر ہم بیعت رضوان ہی کو فتح خیال کرتے تھے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ بیعت اپنے کوائف کے ساتھ مل کر ایک نہایت عظیم الشان فتح تھی۔نہ صرف اس لیے کہ اس نے آئندہ فتوحات کا دروازہ کھول دیا بلکہ اس لیے بھی کہ اس سے اسلام کی اس جاں فروشانہ روح کا جو دین محمدی کا گویا مرکزی نقطہ ہے ایک نہایت شاندار رنگ میں اظہار ہوا اور فدائیان اسلام نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ وہ اپنے رسول اور اس رسول کی لائی ہوئی صداقت کے لیے ہر میدان میں اور اس میدان کے ہر قدم پر موت وحیات کے سودے کے لیے تیار ہیں۔اسی لیے صحابہ کر ام بیعت رضوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ بیعت موت کے عہد کی بیعت تھی یعنی اس عہد کی بیعت تھی کہ ہر مسلمان اسلام کی خاطر اور اسلام کی عزت کی خاطر اپنی