اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 322
اصحاب بدر جلد 3 322 حضرت عثمان بن عفان و خروش کا حال سنا تو قریش کو ٹھنڈا کرنے اور راہ راست پر لانے کی غرض سے ارادہ فرمایا کہ کسی ایسے بااثر شخص کو مکہ میں بھجوایا جائے جو مکہ ہی کا رہنے والا ہو اور قریش کے کسی معزز قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو۔یعنی اس کے بعد بھی آپ نے کوشش چھوڑی نہیں بلکہ پھر بھی یہ رسک (risk) لیا کہ کسی کو دوبارہ بھیجنا چاہیے۔چنانچہ آپ نے حضرت عمر بن الخطاب سے فرمایا کہ بہتر ہو گا کہ آپ مکہ میں جائیں اور مسلمانوں کی طرف سے سفارت کا فرض سر انجام دیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یار سول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ مکہ کے لوگ میرے سخت دشمن ہو رہے ہیں اور اس وقت مکہ میں میرے قبیلہ کا کوئی بااثر آدمی موجود نہیں جس کا اہل مکہ پر دباؤ ہو۔اس لیے میر امشورہ ہے کہ کامیابی کارستہ آسان کرنے کے لیے اس خدمت کے لیے عثمان بن عفان کو چنا جائے جن کا قبیلہ بنو امیہ اس وقت بہت بااثر ہے اور مکہ والے عثمان کے خلاف شرارت کی جرات نہیں کر سکتے اور اگر حضرت عثمان کو بھیجا جائے تو کامیابی کی زیادہ امید ہے۔آنحضرت مصلی تم نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور حضرت عثمان سے ارشاد فرمایا کہ وہ مکہ جائیں اور قریش کو مسلمانوں کے پرامن ارادوں اور عمرہ کی نیت سے آگاہ کریں اور آپ نے حضرت عثمان کو اپنی طرف سے ایک تحریر بھی لکھ کر دی جو رؤسائے قریش کے نام تھی۔اس تحریر میں آنحضرت صلی الہ وسلم نے اپنے آنے کی غرض بیان کی اور قریش کو یقین دلایا کہ ہماری نیت صرف ایک عبادت کا بجالانا ہے اور ہم پر امن صورت میں عمرہ بجالا کر واپس چلے جائیں گے۔آپ صلی امید کم نے حضرت عثمان سے یہ بھی فرمایا کہ مکہ میں جو کمزور مسلمان ہیں انہیں بھی ملنے کی کوشش کرنا اور ان کی ہمت بڑھانا اور کہنا کہ ذرا اور صبر سے کام لیں۔خدا عنقریب کامیابی کا دروازہ کھولنے والا ہے۔یہ پیغام لے کر حضرت عثمان مکہ میں گئے اور ابوسفیان سے مل کر جو اس زمانہ میں مکہ کارئیس اعظم تھا اور حضرت عثمان کا قریبی عزیز بھی تھا اہل مکہ کے ایک عام مجمع میں پیش ہوئے۔اس مجمع میں حضرت عثمان نے آنحضرت صلی اللہ علم کی تحریر پیش کی جو مختلف رؤسائے قریش نے فرداً فرداً بھی ملاحظہ کی مگر باوجود اس کے سب لوگ اپنی اس ضد پر قائم رہے کہ بہر حال مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔حضرت عثمان کے زور دینے پر قریش نے کہا کہ اگر تمہیں زیادہ شوق ہے تو ہم تم کو ذاتی طور پر طواف بیت اللہ کا موقع دے دیتے ہیں مگر اس سے زیادہ نہیں۔حضرت عثمان نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی علی یکم تو مکہ سے باہر روکے جائیں اور میں طواف کروں ! مگر قریش نے کسی طرح نہ مانا اور بالآخر حضرت عثمان مایوس ہو کر واپس آنے کی تیاری کرنے لگے۔اس موقع پر مکہ کے شریر لوگوں کو یہ شرارت سوجھی کہ انہوں نے غالباً اس خیال سے کہ اس طرح ہمیں مصالحت میں زیادہ مفید شرائط حاصل ہو سکیں گی حضرت عثمانؓ اور ان کے ساتھیوں کو مکہ میں روک لیا۔اس پر مسلمانوں میں یہ افواہ مشہور ہوئی کہ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔یہ خبر جب پہنچی تو آنحضرت صلی کم کو بھی شدید غصہ اور صدمہ تھا۔تب آپ نے وہاں بیعت رضوان لی۔اس کے بارے میں لکھا ہے۔یہ خبر حدیبیہ میں پہنچی تو مسلمانوں میں سخت جوش پیدا ہوا کیونکہ