اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 298

باب بدر جلد 3 298 حضرت عمر بن خطاب کرتے تھے کہ کتاب الہی کے افہام و تفہیم سے ان کا گہرا تعلق ہے۔آپ نے فرمایا: تم اپنے دیوان کو حفظ کر لو اور گمراہ نہ رہو۔سامعین نے آپ سے پوچھا کہ ہمارا دیوان کون سا ہے تو حضرت عمر نے فرمایا دورِ جاہلیت کے اشعار ہیں۔ان میں تمہاری کتاب یعنی قرآن مجید کی تفسیر ہے اور تمہارے کلام کے معنی ہیں۔آپ کا یہ فرمان آپ کے شاگرد اور ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس کے اس موقف سے بھی متفق ہے جس میں آپ نے کہا کہ جب تم قرآن پڑھو اور اس کو نہ سمجھ سکو تو اس کے مفہوم معانی عرب کے اشعار میں تلاش کرو کیونکہ شاعری عربوں کا دیوان ہے۔587 بر صغیر کے معروف سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب ”الفاروق، میں آپ کے شعر و شاعری کے ذوق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شعر و شاعری کی نسبت اگر چہ حضرت عمرؓ کی شہرت عام طور پر کم ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ شعر بہت کم کہتے تھے لیکن شعر و شاعری کا مذاق ایسا عمدہ رکھتے تھے کہ ان کی تاریخ زندگی میں یہ واقعہ ہم ترک نہیں کر سکتے۔عرب کے ایک مشہور و معروف شعراء کا کلام کثرت سے یاد تھا اور تمام شعرا کے کلام پر ان کی خاص خاص آراء تھی۔اہل ادب کو عموماً تسلیم ہے کہ آپ کے زمانہ میں اُن سے بڑھ کر کوئی شخص شعر پڑھنے والا نہ تھا۔جاحظ نے اپنی کتاب البیان والتبیین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اپنے زمانے میں سب سے بڑھ کر شعر کے شناسا تھے۔حضرت عمر کے ذوق سخن کا یہ حال تھا کہ اچھے اشعار سنتے تو بار بار مزے لے لے کر پڑھتے تھے۔اگر چہ آپ کو مہمات خلافت کی وجہ سے ان اشغال میں مصروف ہونے کا موقع نہیں مل سکتا تھا تا ہم چونکہ طبعی ذوق رکھتے تھے اس لیے سینکڑوں ہزاروں شعر یاد تھے۔علمائے ادب کا بیان ہے کہ ان کے حفظ اشعار کا یہ حال تھا کہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کرتے تو ضرور کوئی شعر پڑھتے۔آپ صرف وہ اشعار پسند کرتے تھے جن میں خودداری، آزادی، شرافتِ نفس، حمیت، عبرت کے مضامین ہوتے تھے۔اسی بنا پر امرائے فوج اور اضلاع کے عاملوں کو حکم بھیج دیا تھا کہ لوگوں کو اشعار یاد کرنے کی تاکید کی جائے۔چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یہ فرمان بھیجا کہ لوگوں کو اشعار یاد کرنے کا حکم دو کیونکہ وہ اخلاق کی بلند باتوں اور صحیح رائے اور انساب کی طرف راستہ دکھاتے ہیں۔تمام اضلاع میں جو حکم بھیجا تھا اس کے الفاظ یہ تھے: اپنی اولاد کو تیرنا اور شہ سواری سکھاؤ اور ضرب الامثال اور اچھے اشعار یاد کراؤ یعنی علمی ذوق بھی پیدا کرو۔اس موقع پر یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ حضرت عمرؓ نے شاعری کے بہت سے عیوب مٹادیے۔اس وقت تمام عرب میں یہ طریقہ جاری تھا کہ شعراء شریف عورتوں کا نام اعلانیہ اشعار میں لاتے تھے اور ان سے اپنا عشق جتاتے تھے۔حضرت عمرؓ نے اس رسم کو مٹا دیا اور اس کی سخت سزا مقرر کی۔اسی طرح ہجو گوئی کو ایک جرم قرار دیا اور خطیقہ کو جو مشہور ہجو گو تھا اس جرم میں قید کیا۔18 علامہ شبلی نعمانی مزید لکھتے ہیں۔اس زمانے کا سب سے بڑا شاعر متهم بن نویرہا تھا جس کے بھائی کو 588