اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 258
اصحاب بدر جلد 3 258 حضرت عمر بن خطاب اور انہوں نے کہا ہم راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسلام ہمارا دین ہے اور محمدصلی علی کم ہمارے نبی ہیں۔اس پر آپ خاموش ہو گئے۔455 الله سة حضرت ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم سے آپ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ کی ناراض ہوئے تو حضرت عمرؓ نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللی کیم کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت کے حقیقی بیعت ہونے پر راضی ہیں۔456 صحیح بخاری میں ایک اور روایت ہے کہ حضرت عمرؓ ایک دفعہ آنحضرت صلی علیم کے پاس آئے۔اس وقت آپ صلی الی یکم ایک بالا خانے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں میں آپ کے پاس گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔آپ کے اور چٹائی کے درمیان کوئی بچھونا نہیں۔اس لیے چٹائی نے آپ کے پہلو پر نشان ڈالے ہوئے ہیں۔ایک چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے۔میں نے آپ صلی نم کے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اللہ کی قسم ! تین کچی کھالوں کے سو او ہاں کوئی چیز نہیں تھی جو مجھے نظر آئی ہو۔میں نے آپ مصلی می کنم سے کہا۔اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت کو کشائش دے کیونکہ فارس اور روم کو بہت دولت دی گئی ہے اور انہیں دنیا ملی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔آپ صلی علیہ کم نے فرمایا: خطاب کے بیٹے ! کیا ابھی تک تم شک میں ہو۔وہ ایسے لوگ ہیں جن کو جلدی سے اس دنیا کی زندگی میں ہی ان کے مزے کی جو چیزیں تھیں دی گئی ہیں۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔457 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” ایک دفعہ حضرت عمرؓ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں۔تب عمر کو یہ حال دیکھ کر رونا آیا۔آپ نے فرمایا: اے عمر ! تو کیوں روتا ہے۔حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آگیا۔قیصر اور کسریٰ جو کا فر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اس دنیا سے کیا کام! میری مثال اس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اس کو سخت تکلیف دی تو وہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اسی گرمی میں اپنی راہ لی۔نبی صلی الم کا حضرت عمرؓ کو دعا کے لئے کہنا 458" ایک واقعہ ملتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے حضرت عمر کو دعا کے لیے کہا تھا۔حضرت عمرؓ