اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 244

حاب بدر جلد 3 244 حضرت عمر بن خطاب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پہلے بھی دیتے رہتے تھے لیکن جب خاص موقعہ آیا تو سب کچھ لا کر رکھ دیا۔ایک طرف تو یہ لوگ تھے اور ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے مال کے دسویں حصہ کی قربانی کا بھی موقعہ نہیں ملتا اور کہتے ہیں ہم لٹ گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب فوت ہونے لگے تو بار بار ان کی آنکھیں پر نم ہو جاتیں اور کہتے خدایا میں کسی انعام کا مستحق نہیں ہوں۔میں تو صرف یہی چاہتا ہوں کہ سزا سے بچ جاؤں۔404❝ تدفین اور نماز جنازہ پھر تدفین اور جنازے کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ آپ کے بیٹے حضرت عبد اللہ نے آپ کو غسل دیا۔حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور حضرت صہیب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔آپ کی نماز جنازہ رسول اللہ صلی علیکم کے منبر اور روضہ کے درمیان والی جگہ پر ادا کی گئی۔حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضرت عمر کو قبر میں اتارنے کے لیے عثمان بن عفان، سعید بن زید ، صہیب بن سنان اور عبد اللہ بن عمرؓ اترے تھے۔405 406 ان کے علاوہ حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بن عوام کا نام بھی آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں صلحاء کے پہلو میں دفن بھی ایک نعمت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ مرض الموت میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہلا بھیجا کہ آنحضرت مصلی للی نیم کے پہلو میں جو جگہ ہے انہیں دی جاوے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایثار سے کام لے کر وہ جگہ ان کو دے دی تو فرمایا۔مابقى لي هَم بَعْدَ ذَالِكَ۔یعنی اس کے بعد اب مجھے کوئی غم نہیں جبکہ میں آنحضرت صلی ال نام کے روضہ میں مدفون ہوں۔“ الله سة ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : 407" ”جو شخص بکمال شوق اللہ کے دامن سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ اسے ہر گز ضائع نہیں کرتا خواہ دنیا بھر کی ہر چیز اس کی دشمن ہو جائے۔اور اللہ کا طالب کسی نقصان اور تنگی کا منہ نہیں دیکھتا۔اور اللہ صادقوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔اللہ اکبر ! ان دونوں ( ابو بکر و عمر) کے صدق و خلوص کی کیا بلند شان ہے وہ دونوں ایسے (مبارک) مدفن میں دفن ہوئے کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو بصد رشک وہاں دفن ہونے کی تمنا کرتے لیکن یہ مقام محض تمنا سے تو نہیں حاصل ہو سکتا اور نہ صرف خواہش سے عطا کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ تو بارگاہ رب العزت کی طرف سے ایک ازلی رحمت ہے اور یہ رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف رخ کرتی ہے جن کی طرف عنایت ( الہی) ازل سے متوجہ ہو۔408 حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ ”جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہونے لگے تو انہوں