اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 228

حاب بدر جلد 3 228 حضرت عمر بن خطاب اسی وقت فجر کی نماز ادا کی گئی۔اور حضرت عمر اس وقت مسجد میں ہی تھے۔جبکہ دوسری روایات میں ملتا ہے کہ فوری طور پر حضرت عمررؓ کو گھر لے جایا گیا اور نماز بعد میں ادا کی گئی جیسا کہ صحیح بخاری کے شارح علامہ ابن حجر اس روایت کے نیچے ایک دوسری روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کا خون زیادہ بہنے لگا اور ان پر غشی طاری ہو گئی تو میں نے انہیں لوگوں کے ساتھ اٹھایا اور انہیں گھر پہنچا دیا۔آپؐ پر بے ہوشی طاری رہی یہاں تک کہ صبح کی روشنی نمایاں ہو گئی۔جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر فرمایا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ تو میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔اس پر آپ نے فرمایا: اس کا کوئی اسلام نہیں جس نے نماز ترک کی۔پھر آپ نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔381 اس کے علاوہ طبقات کبری میں بھی یہی ہے کہ حضرت عمر کو اٹھا کر گھر پہنچایا گیا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے نماز پڑھائی۔نیز یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن نے قرآن کریم کی سب چھوٹی دو سورتیں وَالْعَصْرِ اور اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ پڑھیں اور ایک جگہ وَالْعَصْرِ اور قُلْ يَاتِهَا الْكَفِرُونَ پڑھنے کا ذکر ہے۔382 حضرت عمرؓ کے قاتل کا ذکر کرتے ہوئے طبقات کبری میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمر پر حملہ ہوا تو آپ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے فرمایا: جاؤ اور دریافت کرو کہ کس نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں نکلا اور میں نے گھر کا دروازہ کھولا تو لوگوں کو جمع دیکھا جو حضرت عمرؓ کے حال سے ناواقف تھے۔میں نے پوچھا کہ کس نے امیر المومنین کو خنجر مارا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کے دشمن ابو لولوں نے آپ کو خنجر مارا ہے جو مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے۔اس نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا ہے لیکن جب وہ پکڑا گیا تو اسی خنجر سے اس نے خود کشی کرلی۔183 اس بارے میں کہ کیا حضرت عمر کی شہادت کوئی سازش کا نتیجہ تھی یا اس شخص کا ذاتی عناد تھا، بعد کے بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عمر کی شہادت صرف کسی ذاتی عناد کی بنا پر نہیں تھی بلکہ ایک سازش تھی۔بہر حال حضرت عمر جیسے بہادر خلیفہ کو جس طرح شہید کر دیا گیا، ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر مؤرخین اور سیرت نگار شہادت کے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں اور یہ تاثر ملتا ہے کہ ابولولو فیروز نے ایک وقتی جوش اور غصہ میں انہیں قتل کر دیا تھا۔لیکن حال کے بعض مؤرخین، سیرت نگار اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کرتے ہوئے یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ محض ایک فردِ واحد کے غصہ کی وجہ سے انتقامی کارروائی نہیں ہو سکتی بلکہ ایک سازش تھی اور با قاعدہ ایک پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت حضرت عمرؓ کو قتل کیا گیا تھا۔اور اس سازش میں مشہور ایرانی سپه سالار هرمزان جو کہ اب بظاہر مسلمان ہو کر مدینہ میں رہ رہا تھا وہ بھی شامل تھا۔حال کے ان مصنفین نے قدیم مؤرخین اور سیرت نگاروں سے شکوہ کیا ہے کہ کیوں انہوں نے اس اہم قتل پر تفصیلی