اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 206

محاب بدر جلد 3 206 حضرت عمر بن خطاب اس دوران رومی فوج کبھی کبھی قلعہ سے باہر آکر جنگ بھی کرتی لیکن پھر واپس چلی جاتی۔اس دوران مقوقس اپنے سفیروں کو مصالحت اور دھمکانے کی غرض سے حضرت عمرو بن عاص کے پاس بھیجتا رہا۔حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عُبادہ بن صامت کو بھیجا اور مصالحت کرنے کے لیے صرف تین شرائط لگا دیں کہ اسلام لاؤ، جزیہ دو یا پھر جنگ ہو گی اور کہا کہ اس کے علاوہ کسی بات پر صلح نہیں ہو سکتی۔نہ صلح کرنا۔مقوقس نے جزیہ دینا منظور کر لیا اور اس سلسلہ میں ہر قل سے اجازت مانگنے کے لیے خود ہر قل کے پاس گیا لیکن ہر قل نے اسے ماننے سے انکار کر دیا بلکہ مقوقس سے سخت ناراض ہوا اور اس کو سزا دیتے ہوئے جلا وطن کر وا دیا۔355 جب قلعہ باہلیوں کی فتح میں زیادہ تاخیر نظر آئی تو حضرت زبیر بن عوام کہنے لگے کہ اب میں اپنی جان اللہ کے رستہ میں ہبہ کرنے جارہا ہوں۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گا۔یہ کہہ کر ننگی تلوار لی اور سیڑھی لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھ گئے۔چند اور صحابہ نے بھی آپ کا ساتھ دیا۔فصیل پر چڑھ کر سب نے ایک نعرہ لگایا اور ساتھ ہی تمام فوج نے بھی نعرہ لگایا جس سے قلعہ کی زمین دہل گئی۔عیسائی سمجھ گئے کہ مسلمان قلعہ کے اندر گھس آئے ہیں وہ بدحواس ہو کر بھاگے اور حضرت زبیر نے فصیل سے اتر کر قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور تمام فوج اندر آگئی اور لڑتے لڑتے قلعہ کو فتح کر لیا۔356 حضرت عمر و بن عاص نے انہیں اس شرط پر امان دے دی کہ رومی فوج اپنے ساتھ چند دنوں کی خوراک لے کر یہاں سے نکل جائے اور قلعہ باہلیوں میں جو ذخیرہ اور جنگی اسلحہ ہے انہیں ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ وہ مسلمانوں کے اموالِ غنیمت ہیں۔اس کے بعد حضرت عمرو بن عاص نے قلعہ بابلیون کے گنبدوں اور بلند اور مستحکم دیواروں کو توڑ دیا۔357 قلعہ بابلیون کی فتح کے بعد اسلامی فوج نے مصر میں مختلف علاقوں اور قلعوں پر فتوحات حاصل کیں جن میں سب سے نمایاں طر نُوط ، نَقْيُوسُ، سُلْطيس ، کریون وغیرہ ہیں۔358 اسکندریہ کی فتح کس طرح ہوئی؟ اس بارے میں لکھا ہے کہ فسطاط کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے اسکندریہ کی فتح کی بھی اجازت دے دی۔اسکندریہ اور فنطاط کے درمیان مقام کیریون میں رومیوں کے ساتھ شدید جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اس کے بعد اسکندریہ تک رومی سامنے نہ آئے۔مقوقس جزیہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا لیکن رومیوں نے اس پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجہ میں مقوقس نے حضرت عمر و بن عاص کو پیغام بھیجا کہ وہ اور قبطی قوم اس جنگ میں شامل نہیں ہیں۔اس لیے ہمیں اس میں کوئی ضرر نہ پہنچے۔قبطی اس معرکے سے الگ رہے جبکہ انہوں نے اسلامی فوج کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کے لیے