اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 2

اصحاب بدر جلد 3 2 حضرت عمر بن خطاب اسلام قبول کیا۔حضرت عمرؓ کی کنیت ابو حفص تھی۔5 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے جنگ بدر کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ بنو ہاشم اور کچھ دوسرے لوگ قریش کے ساتھ مجبوراً آئے ہیں وہ ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔پس تم میں سے جو کوئی بنو ہاشم کے کسی آدمی سے ملے تو اس کو قتل نہ کرے اور جو ابو الْبَخْتَرِی سے ملے وہ اس کو قتل نہ کرے اور جو عباس بن عبد المطلب جو رسول اللہ صلی علیکم کے چچاہیں ان سے ملے تو وہ ان کو بھی قتل نہ کرے کیونکہ یہ لوگ مجبوراً قریش کے ساتھ آئے ہیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ : حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ نے کہا کہ ہم اپنے باپوں، بیٹوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کو تو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں۔اللہ کی قسم ! اگر میں اسے یعنی عباس کو ملا تو میں تلوار سے ضرور اسے قتل کر دوں گا۔راوی کہتے ہیں کہ یہ خبر رسول اللہ صلی علیکم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا۔اے ابو حفص ! حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم !یہ پہلا دن تھا کہ جب رسول اللہ صلی الم نے مجھے ابو حفص کی کنیت سے مخاطب فرمایا تھا۔آپ نے فرمایا کیارسول اللہ کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی ؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں جس نے یہ کہا ہے۔اللہ کی قسم ! اس نے یعنی ابو حذیفہ نے منافقت دکھائی ہے۔حضرت ابو حذیفہ بعد میں کہا کرتے تھے کہ میں اس کلمہ کی وجہ سے جو میں نے اس دن کہا تھا چین میں نہیں رہا اور ہمیشہ اس سے ڈر تارہا سوائے اس کے کہ شہادت میری اس بات کا کفارہ کر دے چنانچہ حضرت ابو حذیفہ جنگ یمامہ کے دن شہید ہو گئے تھے۔فاروق لقب عطا کیا جانا حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضور صلی ا یکم نے حضرت عمر کو 'فاروق' کے لقب سے نوازا تھا۔7 اس لقب کا پس منظر کیا تھا؟ اس کے بعد یہ روایت ملتی ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ آپ کا لقب فاروق کس طرح رکھا گیا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت حمزہ نے مجھ سے تین روز قبل اسلام قبول کیا تھا۔میں اتفاقا مسجد حرام کی طرف جانکلا تو ابو جہل تیزی سے رسول اللہ صلی للی کم کے پاس گالیاں دیتے ہوئے گیا۔پھر انہوں نے حضرت حمزہ کی وہ ساری بات بیان کی جو انہوں نے کیا کہ جب حضرت حمزہ کو خبر ہوئی تو اپنی کمان لے کر خانہ کعبہ کی طرف چلے اور قریش کے اس حلقے میں جس میں ابو جہل بیٹھا تھا اس کے سامنے اپنی کمان پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس کو مسلسل گھورنے لگے۔ابو جہل نے آپ کے چہرے سے ناراضگی محسوس کی تو اس نے کہا اے ابو عمارہ! یہ حضرت حمزہ کی کنیت تھی، کیا معاملہ ہے ؟ یہ سنتے ہی حضرت حمزہ نے اپنی کمان زور سے اس کی گال پر ماری کہ وہ کٹ گئی اور اس سے خون بہنے لگا۔اور ان کے غصہ کے