اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 3
اصحاب بدر جلد 3 3 حضرت عمر بن خطاب خوف کی وجہ سے قریش نے فوراً جھگڑا ختم کر وا دیا۔حضرت عمر نے یہ واقعہ بیان کیا کہ اس طرح ہوا جو میں نے بھی دیکھا تھا۔کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے تیسرے دن میں باہر نکلا تو راستے میں مجھے بنو مخزوم کا ایک شخص ملا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین اختیار کر لیا ہے۔اس نے کہا کہ اگر میں نے کر لیا ہے تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔اس نے بھی تو کر لیا ہے جس پر تم کو مجھ سے زیادہ حق ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا وہ کون ہے ؟ اس نے کہا تمہاری بہن اور بہنوئی۔یہ سن کر جب میں اپنی بہن کے گھر گیا تو میں نے دروازے کو بند پایا اور مجھے وہاں کچھ پڑھنے کی سر گوشیاں سنائی دیں۔میرے لیے دروازہ کھولا گیا اور میں اندر داخل ہو گیا اور ان سے کہا یہ میں نے تم سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا تم نے کیا سنا ہے ؟ اس مکالمے میں بات بڑھ گئی اور میں نے بہنوئی کا سر پکڑ لیا اور اس کو مارا اور اسے لہولہان کر دیا۔میری بہن اٹھی اور اس نے مجھے سر سے پکڑ لیا اور کہا یہ تمہاری خواہش کے خلاف ہوا ہے یعنی ہمارا اسلام لانا تمہاری خواہش کے خلاف ہے۔بہر حال دوسری روایت میں بہن کے زخمی ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے جب بہنوئی کا خون دیکھایا ہو سکتا ہے کہ اس وقت بہن کا بھی ہو گیا ہو تو مجھے شرمندگی ہوئی اور میں بیٹھ گیا اور کہا مجھے یہ کتاب دکھاؤ۔میری بہن نے کہا کہ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔اگر سچ بول رہے ہو تو جاؤ اور غسل کرو۔چنانچہ میں نے غسل کیا اور آکر بیٹھ گیا تو انہوں نے وہ صحیفہ میرے لیے نکالا۔اس میں تھا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں نے کہا یہ نام تو بڑے طیب اور پاکیزہ ہیں۔اس کے بعد تھا لهُ مَا انْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى یہاں سے لے کر لَهُ الْأَسْمَاءُ الحسنٰی تک، طلا کی آیت 2 سے 9 تک تھیں۔کہتے ہیں میرے دل میں اس کلام کی بڑی عظمت پیدا ہوئی۔میں نے کہا قریش اس سے بھاگتے ہیں۔میں نے اسلام قبول کر لیا اور میں نے کہار سول اللہ صلی یہ کم کہاں ہیں؟ میری بہن نے بتایا کہ وہ دارِ ارقم میں ہیں۔میں وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو وہاں موجود صحابہ جمع ہو گئے۔حضرت حمزہ نے ان سے کہا تم لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا عمر۔حضرت حمزہ نے کہا کہ خواہ عمر ہی ہو اس کے لیے دروازہ کھول دو۔اگر وہ باہر دروازے پر کھڑا ہے۔اگر وہ اچھے ارادے سے آئے ہیں تو ہم انہیں قبول کر لیں گے اور اگر وہ بری نیت سے آئے ہیں تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔یہ باتیں رسول کریم صلی لی ایم نے بھی سن لیں۔آپ باہر تشریف لائے تو حضرت عمرؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اس پر گھر میں موجود تمام صحابہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر ! کہا جس کو اہل مکہ نے سنا۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ حضرت عمر کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلی علیہ کم سے عرض کی یارسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔میں نے کہا پھر یہ اخفاء کیوں ہے ؟ ہم اپنے دین کو چھپا کے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ اس کے بعد ہم وہاں سے دو صفوں میں ہو کر نکلے۔