اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 133
محاب بدر جلد 3 133 حضرت عمر بن خطاب جنگ را مَهُرُ مُز اور تُستر - يَزْدَجَز د شاه ایران جو جَلولاء کے معرکے کے بعد رے سے ہو تا ہوا اضطخَر چلا گیا تھا۔یہ اضطعر بھی ایک جگہ کا نام ہے۔ابھی اس نے شکست نہیں مانی تھی اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے لوگوں کو غیرت دلا رہا تھا اور پوری کوشش میں تھا کہ اس علاقے خُوزستان میں، جہاں کی فتوحات کا ہم ذکر کر رہے ہیں، مسلمانوں کے مقابلے کے لیے امدادی فوج بھجوائی جائے۔دوسری وجہ جو اس علاقے میں جنگ کی آگ تیز کرنے کا موجب بنی ہوئی تھی وہ یہاں کے ایک نامی رئیس هرمزان کی مسلمانوں کے خلاف جنگی کارروائی تھی۔ھرمزان قادسیہ کے معرکہ میں شریک ہو چکا تھا اور وہاں سے شکست کھا کر اپنے وطن میں آگیا تھا اور یہاں مسلمانوں پر مسلسل چھاپے مار رہا تھا۔221 جلولاء میں مسلمانوں کی فتح کے بعد ایرانی هرمزان کی قیادت میں رَامَهُرُ مُز میں جمع ہوئے۔رَامَهُرْمُزُ جو ہے یہ بھی خُوزستان کے نواح میں ایک مشہور شہر تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عمر کی ہدایت پر نعمان بن مقرن کو لشکر کا سردار بنا کر کوفہ سے روانہ کیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بصرہ سے روانہ کیا اور فرمایا کہ جب دونوں لشکر اکٹھے ہو جائیں تو ابو سبرہ بن رھم ان کے کمانڈر ہوں گے۔نعمان بن منقرین کی فوج کے بارے میں جب هُر مُزان کو علم ہوا تو اس نے مقابلہ کیا اور شدید جنگ کے بعد هرمزان شکست کھا کر نشتر کی طرف بھاگ گیا۔نشتر بھی خُوزستان سے ایک دن کے فاصلے پر ایک بڑا شہر ہے اور شہر میں محصور ہو گیا۔حضرت ابو سبرہ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے شہر کا محاصرہ کر لیا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔ایرانی فوج بار بار باہر نکل کر حملہ آور ہوتی اور واپس آکر دروازے بند کر لیتی۔اس طرح اس جنگ میں اتنی معرکے ہوئے۔آخری معرکہ میں مسلمانوں نے بھر پور شدت سے حملہ کیا۔جب مسلمانوں کی طرف سے حصار سخت ہو گیا تو دو فارسیوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ شہر سے پانی نکلنے والے راستے سے اندر جا کر شہر کو فتح کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ مسلمان شہر میں داخل ہو گئے۔اس بارے میں اخبار الطوال کے مصنف ابو حنیفہ دینوری نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کا محاصرہ طویل ہو گیا۔ایک رات شہر کا ایک معزز شخص حضرت ابو موسیٰ اشعر مٹی کے پاس آیا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو امان ملنے کے عوض شہر میں قبضہ کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اسے امان دی۔فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ وہ شخص مسلمان بھی ہو گیا تھا۔اس شخص نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی شخص بھیج دیں تا کہ میں اسے آگاہ کر دوں۔یعنی رستہ بتاؤں کہ کس طرح مسلمان قلعہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے قبیلہ بنو شیبان میں سے ایک شخص اشترش بن عوف کو اس کے ساتھ بھیجا۔وہ دونوں ایک چھوٹی سی نہر میں سے ہوتے ہوئے ایک سرنگ کے راستے سے شہر میں داخل ہوئے۔اس نے اشترش بن عوف پر ایک چادر اوڑھادی اور اسے کہا کہ تم میرے پیچھے پیچھے میرے خادموں کی طرح آؤ۔وہ اسے لے کر شہر کے طول و عرض