اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 132

اصحاب بدر جلد 3 132 حضرت عمر بن خطاب سترہ ہجری میں پیش آیا۔اهواز کے معرکے میں اسلامی فوج نے بہت سے لوگوں کو گرفتار کر کے غلام بنالیا مگر حضرت عمر کے حکم سے سب کو رہا کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کوئی غلامی نہیں۔سب جو قیدی تھے سب کو رہا کر دیا۔آزادی دے دی۔طبری نے لکھا ہے کہ اس علاقے میں ایرانی دو راستوں سے مسلمان لشکر پر بار بار حملہ آور ہوتے تھے۔ان دونوں راستوں پر دو مقام نظر تیزی اور مَناذِرُ چھاپہ مار ایرانیوں کے مرکز تھے۔ان دونوں مقامات پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔اکثر جگہ ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ جہاں مسلمانوں کو تنگ کیا جاتا تھا، بار بار حملے کیے جاتے تھے وہیں پھر مسلمانوں نے حملے کیے اور ان جگہوں پر قبضہ کیا۔چنانچہ بلاذری نے لکھا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے نہر تیری کو اہواز کے ساتھ فتح کر لیا اور انہو از کی فتح کے بعد آپ دوسرے مقام یعنی مناذر کی طرف بڑھے اور شہر کا محاصرہ کر لیا اور لڑائی شدت پکڑ گئی۔اس محاصرے کے دوران میں ایک روز ایک مسلمان بہادر مُهاجر بن زیاد روزہ رکھے ہوئے اپنی جان خدا تعالیٰ کے حضور میں قربان کرنے کے ارادے سے دشمن کے مقابلے کے لیے نکلے۔مہاجر کے بھائی ربیع نے امیر لشکر ابو موسیٰ کو اطلاع کر دی کہ مہاجر روزہ رکھ کر میدان میں جارہے ہیں۔ابو موسیٰ نے اعلان کروا دیا کہ جس نے روزہ رکھا ہے وہ یا تو روزہ کھول دے یا میدان جنگ میں نہ جائے۔مُهَاجِر نے یہ اعلان سن کر پانی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطار کیا اور بولے امیر کے حکم کی خاطر ایسا کرتا ہوں ورنہ مجھے پیاس بالکل نہیں ہے۔یہ کہہ کر ہتھیار اٹھائے اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔شہر والوں نے آپ کا سر کاٹ کر محل کے بلند کنگروں پر لٹکا دیا۔محاصرہ طول پکڑ رہا تھا۔ابو موسیٰ اشعر مٹی نے غالباً حضرت عمرؓ کے حکم سے لشکر کا ایک حصہ مہاجر کے بھائی ربیع کی کمان میں مناذر کے محاصرے کے لیے چھوڑا اور خود شہر سُوس کی طرف روانہ ہوئے۔ادھر ربیع نے لڑتے بھڑتے شہر پر قبضہ کر لیا اور بہت سے لوگ قیدی بنا لیے مگر حضرت عمرؓ کے احکامات کے نتیجہ میں یہاں بھی سب قیدی رہا کر دیے گئے۔حضرت ابو موسیٰ سوس کی طرف بڑھے۔شہر والوں نے پہلے مقابلہ کیا اور لڑائی کے بعد شہر میں محصور ہو کر بیٹھ گئے۔بالآخر جب غذا کی تنگی ہوئی تو ہتھیار ڈال دیے۔ان واقعات کی فتوحات کی تفصیل میں میر محمود احمد صاحب نے مقالے میں جو تحقیق اور اپنا تجزیہ کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ : طبری اور بلاذری میں متعدد اختلافات ہیں جن کی وجہ غالباً یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس علاقے میں ایرانی سرداروں کی عہد شکنی کر کے بغاوت کے نتیجہ میں اسلامی لشکر کی دوبارہ جنگی نقل و حرکت کے واقعات روایات میں پہلی مرتبہ کی فتوحات کے واقعات سے مل کر مشتبہ ہو گئے ہیں۔220 فتوحات جو تھیں وہ، اور پھر دوبارہ جو امن قائم کرنے کے لیے ہوا ، وہ مشتبہ ہو گیا ہے لیکن بہر حال یہ ان کا ایک نقطہ نظر ہے۔