اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 127
اصحاب بدر جلد 3 127 حضرت عمر بن خطاب فتح کرنے کے بعد اسلامی لشکر نے بابل کو فتح کیا۔بابل موجودہ عراق کا قدیم شہر تھا۔بابل کو فتح کرنے کے بعد ٹوٹی نام کے ایک تاریخی شہر کے مقام پر پہنچے۔گوٹی بابل کا نواحی علاقہ ہے۔یہ وہ جگہ تھی جہاں حضرت ابراہیم کو نمرود نے قید کیا تھا اور قید خانے کی جگہ اُس وقت تک محفوظ تھی۔حضرت سعد جب وہاں پہنچے اور قید خانے کو دیکھا تو قرآن کریم کی آیت پڑھی۔تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: 141) یعنی یہ دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔کوٹی سے آگے بڑھے تو بھر سنیر نامی ایک جگہ پر پہنچے۔یہ عراق کے شہر مدائن کے اس حصہ کا نام ہے جو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔یہاں کسری کا شکاری شیر رہتا تھا۔حضرت سعد کا لشکر قریب پہنچا تو انہوں نے اس درندے کو لشکر پر چھوڑ دیا۔شیر گرج کر لشکر پر حملہ آور ہوا۔حضرت سعد کے بھائی ہاشم بن ابی وقاص لشکر کے ہر اول دستے کے افسر تھے۔انہوں نے شیر پر تلوار سے ایسا وار کیا کہ شیر وہیں ڈھیر ہو گیا۔پھر اس کے بعد مدائن کا معرکہ بھی ہوا۔مدائن بھی عراق میں ہے اس کی location یہ ہے کہ بغداد سے کچھ فاصلے پر جنوب کی طرف دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔اس کا نام مدائن رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ یہاں یکے بعد دیگرے کئی شہر آباد ہوئے تھے اس لیے عربوں نے اسے مدائن یعنی کئی شہروں کا مجموعہ کہنا شروع کر دیا۔مدائن کسری کا پایہ تخت تھا۔یہاں پر اس کے سفید محلات تھے۔مسلمانوں اور مدائن کے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا۔ایرانیوں نے دریا کے تمام پیل توڑ دیے۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت سعد نے کشتیاں تلاش ہیں کیں کہ وہ دریا کو عبور کر سکیں لیکن معلوم ہوا کہ وہ لوگ کشتیوں پر قابض ہو چکے ہیں۔حضرت سعد چاہتے تھے کہ مسلمان دریا عبور کریں لیکن وہ مسلمانوں کی ہمدری میں ایسا نہیں کرتے تھے۔چنانچہ چند دیہاتی لوگوں نے بھی دریا عبور کرنے کا راستہ بتایا کہ اس جگہ سے چلے جائیں تو آسانی سے کر سکتے ہیں تا ہم حضرت سعد نے اس پر بھی عمل نہیں کیا۔اسی دوران دریا میں طغیانی بھی آگئی۔ایک رات آپ کو خواب دکھایا گیا کہ مسلمانوں کے گھوڑے پانی میں داخل ہوئے ہیں اور دریا کو پار کر لیا ہے حالانکہ وہاں طغیانی بھی ہے۔اس خواب کی تکمیل میں حضرت سعد نے دریا کو عبور کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔حضرت سعد نے فوج سے کہا کہ مسلمانو! دشمن نے دریا کی پناہ لے لی ہے۔آؤ اس کو تیر کر پار کریں اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔حضرت سعد کے سپاہیوں نے اپنے قائد کی پیروی کرتے ہوئے گھوڑے دریا میں ڈال دیے اور اسلامی فوجیں دریا کے پار اتر گئیں۔مقابل فوج نے یہ حیران کن منظر دیکھا تو خوف سے چیخنے لگے اور بھاگ کھڑے ہوئے کہ دیوان آمدند! دیوان آمدند ! یعنی دیو آگئے۔دیو آگئے۔مسلمانوں نے آگے بڑھ کر شہر اور کسریٰ کے محلات پر قبضہ کر لیا۔مسلمانوں کی آمد سے قبل ہی کسری نے اپنے خاندان کے لوگوں کو وہاں سے منتقل کر دیا تھا چنانچہ مسلمانوں نے آسانی کے ساتھ شہر پر قبضہ کر لیا۔اس طرح رسول اللہ صلی المی کم کی وہ پیشگوئی پوری ہو گئی جو آپ صلی ہم نے غزوہ احزاب وو الله رض رض