اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 128

حاب بدر جلد 3 128 حضرت عمر بن خطاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے پتھر پر کدال مارتے ہوئے فرمائی تھی کہ مجھے مدائن کے سفید محلات گرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ان محلات کو سنسان حالات میں دیکھ کر حضرت سعد نے سورۂ دخان کی یہ آیات پڑھیں کہ كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنْتٍ وَعُيُونٍ وَ زُرُوعٍ وَ مَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَكِهِيْنَ كَذلِكَ وَأَوْرَثْنَهَا قَوْمًا أَخَرِينَ (الدخان: 26-29) کتنے ہی باغات اور چشمے ہیں جو انہوں نے پیچھے چھوڑے اور کھیتیاں اور عزت و احترام کے مقام بھی اور ناز و نعمت جس میں وہ مزے اڑایا کرتے تھے۔اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو اس نعمت کا وارث بنا دیا۔حضرت سعد نے حکم دیا کہ شاہی خزانہ اور نوادرات کو ایک جگہ پر جمع کیا جائے۔اس خزانے میں بادشاہوں کی یاد گاریں جو کہ ہزاروں کی تعداد میں تھیں جن میں زرہیں، تلواریں، خنجر ، تاج اور شاہی ملبوسات شامل تھے۔سونے کا ایک گھوڑا تھا جس پر چاندی کا زین تھا اور سینے پر یا قوت اور زمرد جڑے ہوئے تھے۔اسی طرح چاندی کی ایک اونٹنی تھی جس پر سونے کی پالان تھی اور مہار میں بیش قیمت یا قوت پر وئے ہوئے تھے۔مال غنیمت میں ایک فرش بھی تھا جس کو ایرانی ”بہار “ کہتے تھے۔اس کی زمین سونے کی اور درخت چاندی کے اور پھل جو اہرات کے تھے۔یہ تمام سامان فوج نے اکٹھا کیا لیکن مسلمان سپاہی ایسے راست باز اور دیانت دار تھے، یہاں مسلمان سپاہیوں کی دیانتداری کا پتہ لگتا ہے کہ جس نے جو چیز پائی اسی طرح لا کر افسر کے پاس حاضر کر دی۔چنانچہ جب سامان لا کر سجایا گیا اور دور دور تک میدان جگمگا اٹھا تو حضرت سعد کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی اور کہا کہ جن لوگوں نے ان نوادرات میں سے کچھ لیا نہیں بلا شبہ انتہا کے دیانت دار ہیں۔مالِ غنیمت حسب قاعدہ تقسیم ہو کر پانچواں حصہ دربارِ خلافت میں بھیجا گیا۔فرش اور قدیم یادگار میں اس حالت میں بھیجی گئیں کہ اہل عرب ایرانیوں کے جاہ و جلال اور اسلام کی فتح و اقبال کا تماشا دیکھیں۔حضرت عمرؓ کے سامنے جب یہ سامان چنے گئے تو ان کو بھی فوج کی دیانت اور استغنا پر حیرت ہوئی۔حضرت عمرؓ نے بھی بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ کتنے ایمان دار سپاہی ہیں۔محلم نام ایک شخص مدینہ میں تھا جو دراز قد اور خوبصورت تھا۔حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ نوشیر واں کے ملبوسات اس کو لا کر پہنائے جائیں۔یہ ملبوسات مختلف حالتوں کے تھے۔چنانچہ تمام ملبوسات اسے باری باری پہنائے گئے۔ان ملبوسات کی خوبصورتی کو دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔اس طرح وہ فرش جس کا نام ”بہار “ تھا اس کو بھی تقسیم کروا دیا گیا۔214 پھر جنگ جلولاء ہے جو 16 ہجری میں لڑی گئی۔مدائن کی فتح کے بعد ایرانیوں نے جلولاء میں جمع ہو کر مقابلہ کی تیاریاں شروع کر دیں۔حضرت سعد نے ہاشم بن عتبہ کو بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ حضرت عمرؓ کے حکم پر ایرانی لشکر سے مقابلے کے لیے بھیجا۔جلولاء عراق کا شہر ہے جو بغداد سے خراسان جاتے ہوئے راہ پر پڑتا ہے۔یہاں مسلمانوں اور فارسیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔مسلمان