اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 122
حاب بدر جلد 3 122 حضرت عمر بن خطاب ایک اور ہاتھی کی آنکھوں میں نیزے مارے۔کبھی وہ بھاگ کر مسلمانوں کے لشکر میں آتا تو وہ اس کو نیزے کی نوک چھوتے اور کبھی ایرانیوں کے لشکر میں جاتا تو وہ اس کو نیزے چھوتے۔بالآخر وہ ہاتھی جسے اجرب کہتے تھے دریائے عقیق کی طرف بھاگا اور اس کی دیکھا دیکھی دیگر ہاتھی بھی اس کے پیچھے دریا میں کود گئے اور وہ اپنے سواروں سمیت ہلاک ہو گئے۔دن ڈھلنے تک یہ لڑائی جاری رہی۔اسے یوم عماش کہتے ہیں۔عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ گھمسان کا رن پڑا۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت تلواروں کی آوازیں یوں سنائی دے رہی تھیں جیسے لوہاروں کی دکانوں میں لوہا کاٹا جارہا ہو۔ساری رات حضرت سعد بھی جاگتے رہے اور اللہ کے حضور دعا میں مشغول رہے۔عرب و عجم نے اس رات جیسا واقعہ کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا۔صبح ہوئی تو مسلمانوں کا جوش و جذبہ بر قرار تھا اور وہ غالب رہے۔اس رات کے بعد آنے والی صبح تمام لوگوں پر تھکن کی کیفیت تھی کیونکہ پوری رات وہ جاگتے رہے تھے۔اس رات کو لَيْلَةُ الْهَرِير کہتے ہیں۔اس کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہے کہ رات مسلمانوں نے آپس میں گفتگو نہ کی بلکہ صرف سر گوشیاں ہی کرتے رہے۔کریر کا مطلب بھی یہی لکھا ہے کہ جب تیر چلایا جاتا ہے تو جس طرح ہلکی سی آواز کمان میں سے نکلتی ہے یا چکی چلنے کی ہلکی سی آواز آرہی ہو۔طبری میں بھی لَيْلَةُ الْهَرِير کی وجہ تسمیہ یہی لکھی ہے کہ مسلمان اس رات آغاز شب سے لے کر صبح تک نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کرتے رہے۔وہ زور سے نہیں بول رہے تھے بلکہ وہ آہستہ آہستہ سے گفتگو کرتے تھے۔اس وجہ سے اس رات کا نام لَيْلَةُ الْهَرِير مشہور ہو گیا۔رستم کا قتل ہونا بہر حال چوتھی صبح پھر دو پہر تک لڑائی جاری رہی اور ایرانی پسپائی اختیار کرتے رہے۔اس کے بعد رستم پر حملہ کیا گیا تو وہ دریائے عتیق کی طرف بھاگ نکلا۔جب اس نے دریا میں چھلانگ لگائی تو ہلال نامی مسلمان نے اسے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر خشکی پر لے آیا اور اسے قتل کر ڈالا۔اس کے بعد وہ مسلمان جس نے رستم کو قتل کیا تھا اعلان کرنے لگا کہ میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے۔میری طرف آؤ۔مسلمانوں نے ہر طرف سے اس کو گھیر لیا اور زور سے نعرہ تکبیر لگایا۔رستم کے قتل کی خبر سے اہل فارس شکست کھا کر بھاگ گئے۔مسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے انہیں قتل بھی کیا اور ایک بڑی تعداد کو قیدی بھی بنایا۔اس دن کو یوم قادسیہ کہا جاتا ہے۔حضرت عمر روزانہ صبح ہوتے ہی میدان سے باہر آنے والے سواروں سے جنگ قادسیہ کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔جب جنگ کی بشارت لانے والے قاصد نے بتایا کہ اللہ نے مشرکوں کو شکست دی ہے تو حضرت عمر اس وقت دوڑتے جارہے تھے اور معلومات لیتے جار ہے تھے جبکہ وہ قاصد اپنی اونٹنی پر سوار تھا اور وہ حضرت عمر کو پہچانتا بھی نہ تھا۔جب وہ قاصد مدینہ میں داخل ہوا اور لوگ حضرت عمررؓ کو امیر المومنین کہہ رہے تھے اور سلام کر رہے تھے تو قاصد نے حضرت