اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 123
حاب بدر جلد 3 123 حضرت عمر بن خطاب عمرؓ سے عرض کی کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ امیر المومنین ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اے میرے بھائی! کوئی بات نہیں۔بہر حال فتح کی اطلاع کے بعد حضرت عمرؓ نے مجمع میں فتح کی خبر پڑھ کر سنائی اور اس کے بعد ایک پر اثر تقریر کی۔آپ نے حکم بھیجا کہ لشکر اپنی جگہ پر ٹھہر ار ہے اور فوج کی دوبارہ تنظیم و ترتیب کی جائے اور دوسرے قابل اصلاح امور کی طرف توجہ دی جائے۔حضرت سعد نے دربارِ خلافت سے راہنمائی کی تھی کہ قادسیہ کی جنگ میں بہت سے لوگ ایرانیوں کی طرف سے ایسے بھی تھے جو اس سے قبل مسلمانوں سے صلح کر چکے تھے اور ان میں بعض تو اس امر کے ایسے مدعی تھے کہ ایرانی حکومت نے ان کے خلاف مرضی، جبراً انہیں اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔اپنی مرضی سے نہیں آئے تھے بلکہ مجبور ہو کے آئے تھے اور بہت سے لوگوں کا یہ دعویٰ صحیح بھی تھا۔بہت سے لوگ جنگ کے باعث اس علاقے کو چھوڑ کر دشمن کے علاقے کی طرف چلے گئے تھے اور واپس آرہے تھے۔حضرت عمر نے ان امور کے فیصلے کے لیے مدینہ میں مجلس شوری منعقد کی اور بعد از فیصلہ یہ ہدایت بھیجی کہ جن لوگوں سے مسلمانوں کے معاہدات تھے اور انہوں نے اپنے معاہدات پورے کیے اور اپنے علاقے میں مقیم رہے، دشمن کی طرف نہیں گئے ان کے معاہدات کا پوری وفا داری سے احترام کیا جائے گا۔جن لوگوں سے مسلمانوں کے معاہدات نہیں تھے مگر وہ اپنے علاقے میں رہے اور دشمن کی طرف جا کر تمہارے خلاف صف آرا نہیں ہوئے تو ان سے بھی وہی سلوک کیا جائے جو ان لوگوں سے کیا جارہا ہے جن سے معاہدات ہیں۔جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت نے جبر اان کو لشکر میں شامل کر لیا تھا اور ان کا دعویٰ سچا نظر آتا ہے تو ان سے بھی مسلمانوں کے سلوک میں کوئی کمی نہیں کی جائے۔ان کو بھی کچھ نہ کہا جائے اور جو لوگ اس امر کے جھوٹے مدعی ہیں کہ ان پر جبر کیا گیا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے دشمن کے ساتھ مل کر تمہارے خلاف سرگرم کار رہے تو ان کا پہلا معاہدہ تو منسوخ ہو گیا کیونکہ انہوں نے دشمن کا ساتھ دیا ہے۔اب یا تو ان سے دوبارہ مصالحت کی جائے یا انہیں ان کی امن کی جگہ پر پہنچا دیا جائے یعنی پھر ان کو معاہدہ کر کے وہاں سے نکال دیا جائے اور جہاں وہ جانا چاہتے ہیں امن سے رہنے کے لیے چلے جائیں اور جن لوگوں سے معاہدات نہیں اور وہ اس علاقے کو چھوڑ کر دشمن کی طرف چلے گئے اور تمہارے خلاف جنگ آزما ہوئے ان کے متعلق اگر تم مناسب سمجھو تو انہیں بھی بلا لو اور وہ جزیہ ادا کر دیں اور تمہارے علاقے میں رہیں۔نرمی کا سلوک جتنا ہو سکتا ہے کرنا ہے اور تم مناسب سمجھو تو انہیں نہ بلاؤ اور وہ بدستور تمہارے خلاف برسر پیکار رہیں اور تم ان کے خلاف لڑائی جاری رکھو۔اگر وہ پھر لڑائی کرتے رہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے ، پھر تمہیں بھی لڑائی کا حق ہے لیکن اگر وہ باوجود دشمن کے ساتھ ملنے کے باز آجاتے ہیں تو پھر ان کو چھوڑ دو۔یہ احکام مفید ثابت ہوئے اور نواح کے لوگ واپس آکر اپنی زمینوں پر آباد ہو گئے اور یہ وسعت حوصلہ کی ایک عمدہ مثال ہے۔کتنی وسعت حوصلہ ہے کہ مسلمانوں نے ان لوگوں کو بھی اپنی زمین آباد