اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 98

اصحاب بدر جلد 3 98 حضرت عمر بن خطاب خالی نہ تھا۔چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے۔اسی طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ غیر اقوام کے افراد کو جنگی افسر بھی مقرر کیا جاتا تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایرانیوں کو بھی فوجی افسر مقرر کیا گیا۔ان میں سے بعض کے نام بھی تاریخ میں موجود ہیں۔علامہ شبلی نے چھ افسروں کے نام یہ لکھے ہیں۔سیاہ، خسرو، شہریار ، شیرویہ، شَهْروَیہ، آفرودین۔ان افسروں کو تنخواہیں بھی سرکاری خزانے سے ملتی تھیں اور باقاعدہ پے رول (payroll) میں ان کا نام تھا۔چاروں خلفاء کے بعد حضرت معاویہ کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کے زمانے میں ایک عیسائی ابن آثال نامی وزیر خزانہ تھا۔یہ وضاحت میں لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر میں جو میں نے پڑھا ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے علامہ شبلی کے حوالے سے افرودین لکھا ہے اور ایسے ہی الفاروق میں بھی درج ہے لیکن عربی کتب میں اس کا نام آفر و ذین لکھا ہے۔یعنی بجائے دال کے ذال کے ساتھ۔178 بہر حال یہ نام کا ذال اور دال کا ذرا سا فرق ہے کیونکہ لوگ اس پہ بحث شروع کر دیتے ہیں اس لیے وضاحت کر دی ہے۔اسی طرح مارکیٹ کنٹرول، پرائس کنٹرول کے لحاظ سے جو ناجائز حد تک قیمت گرانا ہے اس سے بھی اسلام نے منع فرمایا ہے اور حضرت عمرؓ نے اس کی پابندی کروائی۔مال کی قیمت گرانے کی ممانعت کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اسلام نے قیمت کو ناجائز حد تک گرانے سے بھی منع کیا ہے۔قیمت کا گرانا بھی ناجائز مال کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تاجر اس ذریعہ سے کمزور تاجروں کو تھوڑی قیمت پر مال فروخت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا دیوالہ نکلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔حضرت عمررؓ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ باہر سے آئے ہوئے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا جس قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے اسے حکم دیا کہ یا تو اپنا مال منڈی سے اٹھا کر لے جائے یا پھر اسی قیمت پر فروخت کرو جس مناسب قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت کر رہے تھے۔مدینہ کے جو تاجر تھے وہ مال کی زیادہ قیمت نہیں لے رہے تھے بلکہ مناسب قیمت تھی۔آپ نے کہا اسی قیمت پر فروخت کرو۔” جب آپ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح فروخت کرنے کی اسے اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کے اس فعل کے خلاف رسول کریم صلی اللہ کا یہ قول پیش کیا کہ منڈی کے بھاؤ میں دخل نہیں دینا چاہئے۔مگر ان کا یہ اعتراض درست نہ تھا کیونکہ منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے کے یہ معنی ہیں کہ پیداوار اور مانگ (Supply and demand) کے اصول میں دخل دیا جائے۔“ یعنی سپلائی اور ڈیمانڈ کے جو اصول ہیں ان میں دخل دینا ہے اور ایسا کر نا بیشک نقصان دہ ہے اور اس سے حکومت کو بچنا چاہئے۔مارکیٹ خود اپنے آپ کو سپلائی ڈیمانڈ سے ایڈجسٹ کرتی ہے ”ورنہ 66