اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 99

حاب بدر جلد 3 99 حضرت عمر بن خطاب عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور تاجر تباہ ہو جائیں گے۔179 اس کی اجازت نہ دی جائے لیکن قیمت کنٹرول 180" جو ہے وہ جائز ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفصیل ایک اور جگہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ”شہری حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ لین دین کے معاملات میں خرابی نہ ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اس حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ اسلام نے بھاؤ کو بڑھانے اور مہنگا سودا کرنے سے روکا ہے۔اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو تجارت میں فیل کرنے کے لیے بھاؤ کو گرا دینے سے بھی منع فرمایا ہے۔مقابلے میں کم قیمت کرنا بھی منع ہے۔”ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص ایسے ریٹ پر انگور بیچ رہا تھا جس ریٹ پر دوسرے دکاندار نہیں بیچ سکتے تھے۔حضرت عمر پاس سے گزرے تو انہوں نے اس شخص کو ڈانٹا کیونکہ اس طرح باقی دکانداروں کو نقصان پہنچتا تھا۔غرض اسلام نے سودا مہنگا کرنے سے بھی روک دیا اور بھاؤ کو گرا دینے سے بھی روک دیا تا کہ نہ دکانداروں کو نقصان ہو اور نہ پبلک کو نقصان ہو۔“ تعلیم کے نظام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے تعلیم کو نہایت ترقی دی۔تمام ممالک میں مدر سے قائم کیے جن میں قرآن مجید، حدیث، فقہ کی تعلیم دی جاتی۔کبار علماء صحابہ کو تعلیم و تربیت پر مامور کیا گیا اور پڑھانے والوں کی تنخواہیں بھی مقرر کی گئیں۔اسی طرح ہجری کیلنڈر کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس بارے میں روایات میں آتا ہے۔ایک تو صحیح بخاری کی روایت ہے۔حضرت سہل بن سعد نے بیان کیا کہ صحابہ نے نبی صلی علیہ کم کی بعثت سے تاریخ کا شمار نہیں کیا اور نہ آپ کی وفات سے بلکہ آپ کے مدینہ میں آنے سے ہی انہوں نے تاریخ کا شمار کیا۔182 یعنی ہجرت کے وقت سے۔بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں امام سہیلی کے نزدیک صحابہ نے ہجرت سے تاریخ کا آغاز کرنے کا خیال اللہ تعالیٰ کے قول لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمِ سے لیا ہے۔پس مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ سے مرادوہ دن ہو گا جس میں نبی صلی علیہم اور آپ کے صحابہ مدینہ میں داخل ہوئے۔واللہ اعلم۔181 ہجری کیلنڈر کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمرؓ کی طرف لکھا کہ آپ کی طرف سے ہمیں خطوط آتے ہیں ان پر تاریخ وغیرہ درج نہیں ہوتی۔اس پر حضرت عمر نے لوگوں کو مشورہ کے لیے اکٹھا کیا۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ بخاری نے کتاب الادب میں اور حاکم نے میمون بن مہران کے واسطے سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک چیک پیش کیا گیا جس کی میعاد شعبان تھی۔آپؐ نے فرمایا کون سا شعبان ؟ کیا وہ جو گزر گیا یا وہ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یا وہ شعبان جو آئے گا۔آپ نے فرما یالوگوں کے لیے کوئی تاریخ متعین کر وجو سب کو معلوم رہے۔ابن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے آیا اور اس نے کہا میں نے یمن میں ایک چیز دیکھی