اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 70

اصحاب بدر جلد 3 70 حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ حرة واقم کی طرف گیا۔یہ دو حروں کے درمیان جگہ ہے۔کڑہ سیاہ پتھریلی زمین کو کہتے ہیں۔مدینہ کے مشرق کی جانب حرة واقتم ہے جس کو حرہ بنو قریظہ بھی کہتے ہیں۔دوسر ا حَزَةُ الْوَبُرَہ ہے جو مدینہ کے مغرب میں تین میل کے فاصلہ پر ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں وہاں گیا۔جب ہم صر ار مقام پر پہنچے تو ایک جگہ ایک آگ روشن تھی۔صرار بھی مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے اسلم! میراخیال ہے کہ یہ کوئی مسافر ہیں جن کو رات اور سردی نے روک رکھا ہے۔ہمارے ساتھ آؤ۔چنانچہ ہم تیز تیز چلتے ہوئے ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کے ساتھ اس کے کچھ بچے ہیں اور ایک ہنڈیا آگ پر چڑھی ہوئی ہے۔اس کے بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر رو ر ہے تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔السلام علیکم اے روشنی والو!۔آپ نے آگ والے کہنا پسند نہ کیا بلکہ روشنی والے کہا۔اس خاتون نے وعلیکم السلام کہا۔آپؐ نے فرمایا: کیا میں قریب آسکتا ہوں ؟ اس عورت نے کہا: خیر سے آؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔مطلب کوئی خیر کی بات کرنی ہے تو آؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔آپ قریب ہو گئے۔پھر آپ نے فرمایا تم لوگوں کو کیا ہوا؟ تو اس عورت نے کہا رات اور سردی نے ہمیں یہاں روک لیا ہے۔آپ نے کہا ان بچوں کا کیا معاملہ ہے، یہ کیوں بلک رہے ہیں ؟ اس عورت نے کہا بھوک کی وجہ سے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس ہنڈیا میں کیا چیز ہے ؟ اس عورت نے کہا کہ اس کے اندر صرف پانی ہے اور اس کے ذریعہ میں بچوں کو دلاسا دے رہی ہوں یہاں تک کہ وہ سو جائیں۔اللہ ہمارے اور عمر، حضرت عمرؓ کے درمیان فیصلہ کرے گا۔آپ نے فرمایا: اے خاتون! اللہ تم پر رحم کرے، عمر کو تمہاری حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے ! اس نے کہا یعنی اس عورت نے کہا کہ وہ ہمارے امور کے نگران ہیں اور ہم سے غافل ہیں۔اسلم جو حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ یعنی حضرت عمر میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا ہمارے ساتھ چلو۔پھر ہم نہایت تیزی سے چلتے ہوئے دَارُ التَّقِیق آئے۔حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں دَارُ اللقِیق نام سے ایک عمارت بنوائی تھی جس میں آٹا، ستو، کھجور، کشمش اور دیگر ضروریاتِ سفر جن کی ایک مسافر کو ضرورت ہو سکتی ہے میسر ہوتی تھیں۔آپ نے مدینہ اور مکہ کے در میانی راستوں پر مسافروں کے لیے کچھ سرائے خانے بھی بنوائے ہوئے تھے۔بہر حال پھر آپ نے وہاں سے ایک بو را اناج کا نکالا اور چکنائی کا ڈبہ آپ نے لیا۔آپ نے فرمایا: اسے مجھے اٹھوا دو۔اسلم کہتے ہیں: میں نے کہا کہ آپ کی جگہ میں اٹھا لیتا ہوں۔حضرت عمرؓ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ مجھے یہ اٹھو ادو۔میں نے ہر دفعہ عرض کیا کہ آپؐ کی جگہ میں اسے اٹھالیتا ہوں۔آخر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تیر ابھلا ہو ! کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟ اس پر میں نے وہ بورا آپ پر لاد دیا۔پھر آپ اس بورے کو اپنی کمر پر لاد کر تیز قدموں سے چلے اور میں بھی تیزی سے آپ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم اس عورت کے پاس پہنچ گئے۔آپ نے وہ بوری اس کے پاس اتاری اور اس میں سے کچھ آٹا نکالا اور اس خاتون سے