اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 67
اصحاب بدر جلد 3 67 حضرت عمر بن خطاب کے آقا پر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے جب عمر کی خدمات کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں بے شک عمرؓ اپنے کارناموں میں ایک بے مثال شخص تھا۔وہ تمام خدمات خود عمر کی نگاہ میں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں اور وہ تڑپتے ہوئے کہتا ہے اللهُم لَا عَلَى وَلا لی۔اے میرے رب! ایک امانت میرے سپرد کی گئی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس کے حقوق کو ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔اس لئے میں تجھ سے اتنی ہی درخواست کرتا ہوں کہ تو میرے قصوروں کو معاف فرمادے اور مجھے سزا سے محفوظ ر کھ۔127 پھر اپنی ایک تقریر ”دنیا کا محسن میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ : ”حضرت عمرؓ وہ انسان تھے جن کے متعلق ویسے یہ آنحضرت صلی اللی کام کے بارے میں تھا۔عیسائی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اور کسی نے نہیں کی۔وہ رسول کریم صلی اللہ ہم کو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہیں۔ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی للی علم کے قدموں میں اسے جگہ مل جائے۔اگر رسول کریم علی ایم کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمر جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپ کے قدموں میں جگہ پائے۔؟ حضرت مصلح موعودؓ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ آنحضرت صلی علیہ کم کی غلامی کی وجہ تھی اور آپ کی تربیت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ میں یہ انصاف کے کام تھے اور یہ خوف خدا تھا۔حضرت عمرؓ کی اہل بیت سے عقیدت کا کیا اظہار تھا؟ اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: 128❝ حضرت عائشہ دیر تک رسول کریم صلی ال کمی کے بعد زندہ رہی تھیں۔حضرت عمر کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے آٹا پینے والی ہوائی چکیاں لائی گئیں۔جن میں بار یک آٹا پیسا جانے لگا۔جب سب سے پہلی چکی مدینہ میں لگی تو حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ پہلا پسا ہوا بار یک آنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا جائے۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ بار یک میدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا اور ان کی خادمہ نے اس آٹے کے بار یک بار یک پھلکے تیار کیے۔میدے کی روٹی محبت کے آنسو مدینہ کی عورتیں جنہوں نے پہلے کبھی ایسا آٹا نہیں دیکھا تھا وہ ہجوم کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گئیں کہ آؤ ہم دیکھیں وہ آٹا کیسا ہے اور اس کی روٹی کیسی تیار ہوتی ہے ؟ سارا صحن عورتوں سے بھرا ہوا تھا اور سب اس انتظار میں تھے کہ اس آٹے کی روٹی تیار ہو تو وہ اسے دیکھیں۔حضرت مصلح موعود عورتوں کو خطاب کر رہے تھے۔ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتی ہو گی کہ شاید وہ کوئی عجیب قسم کا آنا ہو گا۔وہ عجیب قسم کا آٹا نہیں تھا بلکہ اس سے بھی ادنی آٹا تھا جو