اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 63
تاب بدر جلد 3 63 حضرت عمر بن خطاب حضرت خلیفتہ المسیح الاول بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ کی طبیعت میں وہ تیزی نہیں رہی جو زمانہ جاہلیت میں تھی تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا تیزی تو وہی ہے مگر اب کفار کے مقابلے میں دکھائی جاتی ہے۔121 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنے بعد عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر کیا تو بڑا غضب ہو گا کیونکہ یہ بہت غصیلے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ ان کا غصہ اسی وقت تک گرمی دکھاتا ہے جب تک کہ میں نہ رہوں اور جب میں نہ رہوں گا تو یہ خود نرم ہو جائیں گے۔122 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عمرؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپ بڑے غصہ ور تھے۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔123 صحیح جگہ پہ غصہ استعمال ہوتا ہے۔جامع بن شداد اپنے کسی قریبی عزیز سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے خدا! میں ضعیف ہوں مجھے طاقتور بنادے اور میں سخت مزاج ہوں مجھے نرم مزاج بنادے اور میں بخیل ہوں مجھے سخی بنادے۔خلافت کے بعد حضرت عمر فکا پہلا خطاب حضرت عمر نے خلیفہ بننے کے بعد جو پہلا خطاب فرمایا اس بارے میں بھی متفرق روایات ملتی ہیں۔ایک روایت میں ہے۔محمید بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے وقت جو حاضر تھا اس نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو بکر کی تدفین سے جب حضرت عمر فارغ ہوئے تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ان کی قبر کی مٹی کو جھاڑا۔پھر اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اور مجھے تمہارے ذریعہ سے آزمایا ہے اور اس نے میرے دونوں ساتھیوں کے بعد مجھے تم پر باقی رکھا ہے۔اللہ کی قسم ! تمہارا جو بھی معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا تو میرے علاوہ کوئی اور اس کو نہیں دیکھے گا اور جو معاملہ مجھ سے دُور ہو گا تو اس کے لیے میں قوی اور امین لوگوں کو مقرر کروں گا یعنی لوگ مقرر کیے جائیں گے جو تمہاری نگرانی کریں گے اور معاملات کو دیکھیں گے۔اگر لوگ اچھا برتاؤ کریں گے تو میں بھی ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر انہوں نے برائی کی تو میں انہیں سزا دوں گا۔حسن کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ سب سے پہلا خطبہ جو حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا وہ یہ تھا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا۔انا بعد مجھے تم لوگوں کے ذریعہ آزمایا گیا ہے اور تم لوگ میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو اور مجھے اپنے دونوں ساتھیوں کے بعد تم لوگوں پہ پیچھے چھوڑ دیا گیا۔پس جو