اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 62

تاب بدر جلد 3 62 حضرت عمر بن خطاب وصیت پڑھی گئی۔انہوں نے اسے سنا اور اطاعت کی۔اس وقت حضرت ابو بکر لوگوں کی طرف مائل ہوئے اور فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو جسے میں نے تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیونکہ میں نے کسی رشتہ دار کو تم پر خلیفہ مقرر نہیں کیا۔میں نے یقینا تم پر عمر کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔پس اس کو سنو اور اطاعت کرو اور اللہ قسم !یقینا میں نے اس بارے میں غور و فکر میں کمی نہیں کی۔اس پر لوگوں نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ میں نے تمہیں رسول اللہ صلی علی ایم کے صحابہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے اور آپ یعنی حضرت عمر کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کی۔پھر فرمایا اے عمر ا یقینا اللہ کے کچھ حقوق ہیں جو رات کے وقت ہوتے ہیں جنہیں وہ دن کے وقت میں قبول نہیں کرتا اور کچھ حقوق دن کے ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا اور یقیناًوہ اس وقت تک نوافل قبول نہیں کرتا جب تک فرائض پورے نہ کیے جائیں۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو بھاری ہیں جن کے حق کی پیروی کرنے اور بھاری ہونے پر قیامت کے دن تر از وبھاری ہوں گے۔جو سچائی کی پیروی کریں گے ان کے ترازو قیامت کے دن بھاری ہوں گے۔پھر آپؐ نے فرمایا اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ کل کو اس میں وہی بات رکھی جائے گی جو بھاری ہو گی۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو ہلکے ہیں جن کے قیامت کے دن ترازو ہلکے ہوں گے۔ان کے باطل کی پیروی اور ان کے ہلکا ہونے کی وجہ سے یعنی وہ سچائی کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور نیکیاں نہیں بجالا رہے تھے اس لیے قیامت کے دن پھر ان کے ترازو ہلکے ہوں گے۔اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ جب بھی اس میں باطل رکھا جائے گا تو وہ ہلکا ہی ہو گا۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ نرمی والی آیات شدت والی آیات کے ساتھ نازل ہوئی ہیں اور شدت والی آیات نرمی والی آیات کے ساتھ تاکہ مومن رغبت رکھنے والے اور ڈرنے والے بھی ہوں۔ایک طرف نیکی کی رغبت رکھیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ان میں ہو اور کوئی ایسی خواہش نہ رکھیں جس کا اللہ سے تعلق نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی ایسے امر سے ڈرے جو اس کے اپنے ہاتھوں سے ہو۔اے عمر ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آگ والوں کا محض ان کے برے اعمال کی وجہ سے ذکر کیا ہے۔پس جب تم ان کا ذکر کرو تو کہو یقیناً میں امید کرتا ہوں کہ میں ان میں سے نہیں ہوں اور اللہ نے جنت والوں کا ذکر محض ان کے نیک اعمال کی وجہ سے کیا ہے کیونکہ اللہ نے ان کی برائیوں سے در گزر کر دیا ہے۔پس جب تم ان کا ذکر کرو تو کہو کیا میرے اعمال ان کے اعمال جیسے ہیں۔19 1 اپنے دل سے پوچھو۔جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ فرمانے لگے۔ہمارے پاس مسلمانوں کا جو مال ہے اسے واپس کر دو۔میں اس مال میں سے کچھ بھی لینا نہیں چاہتا۔میری وہ زمین جو فلاں فلاں مقام پر ہے مسلمانوں کے لیے ان اموال کے عوض ہے جو میں نے بطور نفقہ بیت المال سے لیا تھا۔یہ زمین، اونٹنی، تلوار صیقل کرنے والا غلام اور چادر جو پانچ درہم کی تھی سب حضرت عمر کو دے دیا گیا۔حضرت عمرؓ نے جب یہ سارا سامان دیکھا تو کہا کہ حضرت ابو بکر نے اپنے بعد والے کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔120