اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 61

اصحاب بدر جلد 3 61 حضرت عمر بن خطاب اور اہل اسلام کی طرف سے جزائے خیر دے جو تم نے یہ فقرہ لکھ دیا۔حضرت ابو بکڑ نے اس تحریر کو اس جگہ برقرار رکھا، کوئی تبدیلی نہیں کی۔116 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ مجھے خلیفہ کے لیے کسی شخص کا مشورہ دو۔اللہ کی قسم ! تم میرے نزدیک مشورے کے اہل ہو۔اس پر انہوں نے کہا حضرت عمرؓ حضرت ابو بکر نے فرمایا لکھو۔تو انہوں نے لکھا یہاں تک کہ نام تک پہنچے تو حضرت ابو بکر بے ہوش ہو گئے۔پھر جب حضرت ابو بکر کو افاقہ ہو ا تو آپ نے فرمایا لکھو عمر۔پھر ایک روایت میں ہے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر کی وصیت حضرت عثمان تحریر کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہوئی۔حضرت عثمان نے حضرت عمر کا نام لکھ دیا۔جب حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا تم نے کیا لکھا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے لکھا ہے عمر حضرت ابو بکر نے فرمایا تم نے وہی لکھا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا کہ تم سے کہوں گا۔اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس کے اہل تھے۔117 ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو بکر بیمار ہوئے تو آپ نے حضرت علی اور حضرت عثمان اور مہاجرین و انصار کے چند لوگوں کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا اب وقت آگیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو اور تمہیں حکم دینے کے لیے کوئی نہیں کھڑا۔اگر تم چاہو تو اپنے میں سے کسی کو چن لو اور اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہارے لیے چن لوں۔انہوں نے عرض کیا بلکہ آپ ہمارے لیے چن لیں۔انہوں نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا لکھو یہ وہ عہد ہے جو ابو بکر بن ابو قحافہ نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنا آخری عہد کیا اور آخرت میں داخل ہوتے ہوئے اپنا پہلا عہد کیا جہاں فاجر تو بہ کرے گا اور کافر ایمان لائے گا اور جھوٹا تصدیق کرے گا اور وہ عہد یہ ہے کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی الہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں خلیفہ مقرر کر تا ہوں۔پھر حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہو گئی تو حضرت عثمان نے خود ہی عمر بن خطاب لکھ دیا۔پھر جب حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کیا تم نے کچھ لکھا؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں میں نے لکھا ہے عمر بن خطاب۔اس پر حضرت ابو بکر نے فرمایا اللہ تم پر رحم فرمائے۔اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم اس کے اہل تھے۔پس تم لکھو میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو تمہارا خلیفہ مقرر کیا ہے اور میں تم لوگوں کے لیے ان پر راضی ہوں۔جب وصیت لکھی جاچکی تو حضرت ابو بکر نے فرمایا۔اسے لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔پھر حضرت عثمان نے لوگوں کو جمع کیا اور آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام کے ہاتھ خط بھیجا۔اس وقت حضرت عمر بھی اس کے ساتھ تھے۔حضرت عمر لو گوں کو کہتے خاموش ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی علیکم کے خلیفہ کی بات سنو کیونکہ انہوں نے تمہارے لیے خیر خواہی میں کمی نہیں کی۔تب لوگ سکون سے بیٹھ گئے اور ان کے سامنے 118