اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 55
باب بدر جلد 3 55 حضرت عمر بن خطاب آنحضرت صل لم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) مر گئے، کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ ہزار ہا نیک اجر حضرت ابو بکر کو بخشے کہ جلد تر انہوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلادیا کہ گذشتہ تمام نبی مرگئے ہیں۔اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا۔در حقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے فیج اعوج کے کذابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا۔“ یعنی جس طرح وہ جھوٹا قتل کیا اسی طرح یہ جو ایک نظر یہ تھا اس کا بھی خاتمہ کر دیا۔گو یا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یا الہی ان کی جان پر کروڑ ہار حمتیں نازل کر۔آمین۔اگر اس جگہ خلث کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جابیٹھے ہیں تب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو مضر نہیں بلکہ ان کی مؤید ٹھہرتی ہے۔لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی أَفَا بِنْ مَّاتَ أَوْ قتل (آل عمران:145) جس پر حضرت ابو بکر کی نظر جاپڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گذر گئے گو مر کر گزر گئے یا زندہ ہی گزر گئے یہ دجل اور تحریف اور خدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے اور ایسے افتر اعمد ا کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے بر خلاف الٹے معنے کرتے ہیں وہ بلا شبہ ابدی لعنت کے نیچے ہیں۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس وقت تک اِس آیت کا علم نہیں تھا اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اس سہو و نسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور ان کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔پھر کیوں آنحضرت صلی للی کم ان کی مانند نہ ہوں لیکن حضرت ابو بکر نے تمام آیت پڑھ کر اور آفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ حلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں۔1۔حتف آنف سے مرنا یعنی طبعی موت “ مرنا اور ”2۔مارے جانا۔تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گذشتہ نبی سب مر گئے ہیں اور فقرہ آفَابِنُ مَاتَ او قتل کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کر لیا۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَالِكَ۔106❝ یہ تحفہ غزنویہ میں آپ نے بیان فرمایا ہے۔پھر ایک اور جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ”تمام صحابہ کی شہادت آنحضرت صلیم ہی کی وفات پر یہ ہوئی ہے کہ سب نبی مر گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اینم کی نسبت کہا کہ ابھی نہیں مرے اور تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر یہ خطبہ پڑھتے ہیں کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اب اس موقعہ پر جو ایک قیامت ہی کا میدان تھا کہ نبی کریم صلی یہ کام اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کل صحابہ جمع ہیں۔یہاں تک کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ نہیں ہوا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر حضرت ابو بکر بآواز بلند کہتے ہیں کہ محمد صلی الی یم کی وفات ہو گئی اور اس پر استدال کرتے ہیں مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُول سے۔اب اگر صحابہ کے وہم گمان الله سة