اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 53
اصحاب بدر جلد 3 53 حضرت عمر بن خطاب quote فرمائے ہیں تو اس کے بجائے میں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔الفاظ تو جب چھپے گا اس میں آجائیں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری میں جو اصح الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارت ہے۔عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسْ يَا عُمَرُ فَأَبِي عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا بَعْدُ مَنْ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَى لَا يَمُوتُ قَالَ اللهُ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّرِينَ وَقَالَ وَاللهِ كَانَ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ انْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا اسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا أَنَّ عُمَرًا قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ آبَا بَكْرِ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا يُقِلُّى رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَاتَ۔یعنی۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو بکر نکلا ( یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا ( یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت صلی ال تیم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں) پس ابو بکر نے کہا اے عمر ! بیٹھ جا۔مگر عمرؓ نے بیٹھنے سے انکار کیا۔پس لوگ ابو بکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا۔پس ابو بکڑ نے کہا کہ بعد حمد وصلوٰۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں سے محمد صل الم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو گئے اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی الم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گزر چکے ہیں یعنی مرچکے ہیں اور حضرت ابو بکر نے الشکرین تک یہ آیت پڑھ کر سنائی۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ مہا راوی نے پس بخدا گو یا لوگ اس سے بے خبر تھے کہ یہ آیت بھی خدا نے نازل کی ہے اور ابو بکڑ کے پڑھنے سے ان کو پتہ لگا۔پس اس آیت کو تمام صحابہ نے ابو بکر سے سیکھ لیا اور کوئی بھی صحابی یا غیر صحابی باقی نہ رہا جو اس آیت کو پڑھتانہ تھا اور عمرؓ نے کہا کہ بخدا میں نے یہ آیت ابو بکر سے ہی سنی جب اس نے پڑھی۔پس میں اس کے سننے سے ایسا بے حواس اور زخمی ہو گیا ہوں کہ میرے پیر مجھے اٹھا نہیں سکتے اور میں اس وقت سے زمین پر گرا جاتا ہوں جب سے کہ میں نے یہ آیت پڑھتے سنا اور یہ کلمہ کہتے سنا کہ آنحضرت صلی الم فوت ہو گئے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اور اس جگہ قسطلاني شرح بخاری کی یہ عبارت ہے۔وَ عُمر بن الخطاب يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُوْلُ لَهُمْ مَا مَاتَ رَسُوْلُ اللهِ وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ الْمُنَافِقِينَ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ کی قوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ کر لیں فوت نہیں ہوں گے۔پھر آپ فرماتے ہیں ” اور مَلِلٌ وَنَحل شہرستانی میں اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے۔قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ مَنْ قَالَ أَنَّ مُحَمَّدًا مَاتَ فَقَتَلْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا ، وَالْمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَارُفِعَ عِيسَى