اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 52
اصحاب بدر جلد 3 52 52 حضرت عمر بن خطاب ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی ا یک فوت نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں۔حضرت عمر کہا کرتے تھے بخدا! میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔اور انہوں نے کہا یعنی حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ آپ کو ضرور ضرور اٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آ گئے۔حضرت عمر یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آنحضرت صلا لنی کیم کی وفات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آگئے۔انہوں نے رسول اللہ صلی علیم کے چہرہ سے کپڑا ہٹایا۔آپ کو بوسہ دیا۔کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ صلی الی یک زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک وصاف ہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ آپ کو کبھی دو موتیں نہیں چکھائے گا۔یہ کہہ کر حضرت ابو بکر باہر چلے گئے یعنی لوگوں کے پاس گئے اور کہنے لگے۔اے قسم کھانے والے ٹھہر جا۔یعنی حضرت عمر کو مخاطب کیا اور فرمایا قسم کھانے والے ٹھہر جا۔جب حضرت ابو بکر بولنے لگے تو حضرت عمررؓ بیٹھ گئے۔حضرت ابو بکر نے حمد و ثنابیان کی اور کہا کہ اَلا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَى يَمُوتُ حي لا يموت۔کہ دیکھو جو محم علی ایم کو پوجتا تھا سن لے کہ محم ملی تم تو یقینا فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کو پوجتا تھا تو اسے یادر ہے کہ اللہ زندہ ہے بھی نہیں مرے گا اور حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی۔اِنَّكَ ميتُ وَإِنَّهُمْ مَّيِّتُونَ ( از مر:31) کہ تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔وَمَا مُحَمَّدُ اِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّرِينَ (آل عمران:145) کہ محمد صرف اللہ کے رسول ہیں۔آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں تو پھر کیا اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔سلیمان کہتے تھے یہ سن کر لوگ اتنے روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔103 ج حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ایسا معلوم ہوا کہ گویا لوگ اس وقت تک کہ حضرت ابو بکر نے وہ آیت پڑھی جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی۔گویا تمام لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھی۔پھر لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی میں نے سنا یہی آیت پڑھ رہا تھا۔زہری کہتے تھے سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت عمرؓ نے کہا اللہ کی قسم ! جو نہی کہ میں نے ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنائیں اس قدر گھبرایا کہ دہشت کے مارے میرے پاؤں مجھے سنبھال نہ سکے اور میں زمین پر گر گیا۔جب میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنا تو میں نے جان لیا کہ نبی صلی العلم فوت ہو گئے 104 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔عربی کے الفاظ بھی حدیث میں آپ نے