اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 45

ب بدر جلد 3 45 حضرت عمر بن خطاب میں جب بھی مسلمانوں کی آگوں میں سے کسی آگ کے پاس سے گزر تا تو وہ پوچھتے یہ کون ہے ؟ رات کا وقت تھا، آگیں جلی ہوئی تھیں۔جب وہ رسول اللہ صلی ال نیم کا خچر دیکھتے اور یہ کہ میں اس پر سوار ہوں تو وہ کہتے رسول اللہ صلی اللی کم کے چا آپ کے خچر پر ہیں۔یہاں تک کہ جب میں عمر بن خطاب کی آگ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا یہ کون ہے ؟ اور وہ میرے پاس کھڑے ہوئے۔جب انہوں نے ابوسفیان کو دیکھا تو کہا ابوسفیان، اللہ کا دشمن ! ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے بغیر کسی عہد و پیمان کے تجھ پر غلبہ عطا فرمایا ہے۔پھر حضرت عباس کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے یعنی ابوسفیان کو اور حضرت عمررؓ بھی آپ کے پاس داخل ہوئے اور حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں اس کی گردن مار دوں۔حضرت عباس کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس کو پناہ دی ہے۔جب حضرت عمر اپنی بات پر اصرار کرتے رہے تو میں نے کہا اے عمر ! ٹھہرو۔اللہ کی قسم ! اگر اس کا تعلق بنو عدی سے ہو تا تو تم ایسانہ کہتے اور تم جانتے ہو کہ وہ بنو عبد مناف میں سے ہے۔اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ اے عباس ! ٹھہر و۔اللہ کی قسم ! جب تم نے اسلام قبول کیا تھا تو مجھے اتنی خوشی ہوئی تھی کہ اگر میرا باپ خطاب بھی ایمان لاتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی اور میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی یہ تم کو تمہارا ایمان لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب تھا۔اگر وہ اسلام قبول کرتا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا: اے عباس ! ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور صبح لے کر آنا۔90 بہر حال حضرت عمر کا اور حضرت عباس کا یہ مکالمہ ہوتا رہا اور آخر پھر آنحضرت صلی ا ہم نے حضرت عباس کو یہی کہا کہ اس کو لے جاؤ۔پناہ میں دے دیا ہے تو لے جاؤ۔کچھ نہیں کہنا اس کو۔ابو بکر بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ شعبان سات ہجری میں رسول اللہ صلی ا لم نے حضرت عمر بن خطاب کو ایک سریہ میں تیس آدمیوں کے ساتھ توبہ میں قبیلہ ہوازن کی ایک شاخ کی طرف روانہ فرمایا۔ترتبہ مکہ سے دو دن کی مسافت پر ایک وادی ہے جہاں بنو ہوازن آباد تھے۔جب دو دن کی مسافت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔دو دن کے حوالے سے میری مراد یہ ہے کہ جب دنوں کے حوالے سے کہیں بھی حوالہ آئے ، بات ہو۔تو یہ پرانے زمانے کی سواریاں گھوڑے یا اونٹ تھے ان کے حوالے سے ذکر ہوتا ہے۔بریدہ اسلمی سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی المی کم اہل خیبر کے میدان میں اترے تو آپ نے جھنڈ ا حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔91 سب سے پہلی مر تبہ پر چم کالہرایا جانا اور جنگ خیبر کتب سیرت میں لکھا ہے کہ سب سے پہلی مرتبہ غزوہ خیبر میں پرچم کا ذکر ملتا ہے۔اس سے قبل صرف جھنڈے ہوتے تھے۔یہ ذکر ہو رہا تھا کہ بُریدہ اسلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللی کم اہل خیبر