اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 44
حاب بدر جلد 3 44 حضرت عمر بن خطاب آگیا۔آپ نے فرمایا: مجھ پر اس وقت ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔پھر آپ نے سورہ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! کیا یہ صلح واقعی اسلام کی فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں یقیناً یہ ہماری فتح ہے۔اس پر حضرت عمرہ تسلی پا کر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی للہ مدینہ میں رم واپس تشریف لے آئے۔87 حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی علیم نے مشرکین مکہ سے صلح کر لی جس کی وجہ سے صحابہ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہو گئی کہ حضرت عمر جیسا آدمی رسول کریم صلی ال نیم کے پاس گیا اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم طواف کعبہ کریں گے یا کیا اسلام کے لئے غلبہ مقدر نہیں تھا؟ رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا پھر ہم نے دب کر صلح کیوں کر لی ؟ رسول کریم صلی الم نے فرمایا بے شک خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم طواف کریں گے مگر یہ نہیں تھا کہ اسی سال کریں گے۔8866 فتح مکہ۔۔۔اور ابوسفیان کو امان کا ملنا صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب بنو بکر نے جو قریش کے حلیف تھے مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنو خُزاعہ پر حملہ کیا اور قریش نے ہتھیاروں اور سواریوں سے بنو بکر کی مدد بھی کی اور صلح بیہ کی شرائط کا پاس نہ کیا تو اس وقت ابو سفیان مدینہ میں آیا اور صلح حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید چاہی۔وہ رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس گیا لیکن آپ نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔پھر وہ ابو بکر کے پاس گیا ان سے بات کی کہ وہ رسول اللہ صلی علیم سے بات کریں لیکن انہوں نے بھی کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔پھر ابو سفیان حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور ان سے بات کی۔انہوں نے جواب دیا کہ کیا میں رسول اللہ کے پاس تیری سفارش کروں؟ خدا کی قسم! اگر میرے پاس ایک تنکا بھی ہو تب بھی میں اس کے ساتھ تم لوگوں سے جنگ کروں گا۔89 فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر علی محمد صلابی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلى عليم من الظهران پہنچے تو ابو سفیان کو اپنے بارے میں فکر ہونے لگی۔رسول اللہ صلی علی کم کے چا حضرت عباس نے اسے مشورہ دیا کہ رسول اللہ صلی علیم سے امان طلب کر لو۔حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوسفیان سے کہا تیرا برا ہو۔دیکھو رسول اللہ صلی علی کم لوگوں میں موجود ہیں۔ابو سفیان کہنے لگا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ! اس سے بچنے کی کیا ترکیب ہے؟ میں نے کہا اللہ کی قسم ! اگر وہ تمہیں گرفتار کر لیں تو یقینا تمہیں قتل کر دیں گے۔میرے پیچھے خچر پر سوار ہو جاؤ میں تمہیں رسول اللہ صلی الیکم کے پاس لے جاتا ہوں اور پھر تمہارے لیے آپ سے امان طلب کروں گا۔حضرت عباس کہتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے سوار ہو گیا۔