اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 475

محاب بدر جلد 3 475 حضرت علی میں پڑھائی جارہی ہیں۔اتنا ان کا رعب ہے ، ان کے علم کا اور ہمیں یہ لوگ بتاتے نہیں۔خلیفہ رابع کہتے ہیں ہمیں یہ شیعہ لوگ نہیں بتاتے کہ کس طرح وہ بسمل صاحب کی کتابیں پڑھارہے ہیں۔آپ بتارہے ہیں کہ مجھے تو ویسے پتہ لگ گیا ہے اس عالم کے ذریعہ سے۔لیکن یہ وہاں پڑھاتے ہوئے نہیں بتاتے کہ وہ کون تھا اور بعد میں، بسمل صاحب کے ساتھ کیا ہوا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا اور ان ساری عزتوں کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا جو ان کو اس زمانے میں شیعہ مسلک سے حاصل تھیں۔یہ ان کی کتب کا حوالہ ہے یعنی کسی معمولی آدمی کا حوالہ نہیں ہے۔اس کتاب کا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع حوالہ دے رہے ہیں۔یہ ساری تمہید باندھ کے کہ البزار نے اپنی مسند میں لکھا ہے کہ حضرت علی نے لوگوں سے دریافت کیا کہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ جواب دیا کہ آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں پھر میں سب سے زیادہ بہادر کیسے ہوا؟ اب تم یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ حضرت علی نے دوبارہ پوچھا۔یہ بسمل صاحب نے ایک کتاب کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔لوگوں نے کہا کہ جناب ہم کو نہیں معلوم آپ ہی فرمائیں۔آپ نے ارشاد کیا کہ سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر ہیں۔آپ نے ارشاد کیا یعنی حضرت علی نے ارشاد کیا کہ سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر نہیں۔سنو ! جنگ بدر میں ہم نے رسول خداصلی مینی کیم کے لیے ایک سائبان بنایا تھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان کے نیچے رسول اللہ صلی الم کے ساتھ کون رہے گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک رسول اللہ صلی علی تم پر حملہ کر دے۔بخدا ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق شمشیر برہنہ کے ساتھ ، شمشیر برہنہ ہاتھ میں لے کر رسول اللہ صلی می کرم کے پاس کھڑے ہو گئے اور پھر کسی مشرک کو آپ کے پاس آنے کی جرات نہ ہو سکی۔اگر کسی نے ایسی جرآت کی بھی تو آپ فوراً اس پر ٹوٹ پڑے۔اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ بہادر ہیں یعنی حضرت ابو بکر۔یہ حضرت علی نے فرمایا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی ا ہم کو اپنے نرغے میں لے لیا اور وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ خدا ایک ہے۔حضرت علی فرما رہے ہیں کہ خدا کی قسم ! کسی کو مشرکین سے مقابلہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی لیکن حضرت ابو بکر صدیق آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر اور دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے، تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا پہنچارہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار صرف اللہ ہے۔یہ فرما کر حضرت علی نے اپنی چادر اٹھائی، چادر منہ پر رکھ کر اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی بھیگ گئی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے۔اے لوگو! بتاؤ کہ مومن آل فرعون اچھے تھے کہ ابو بکر ا چھے ہیں۔آل فرعون سے جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے پیغمبر پر اس قدر جاں نثاری نہیں کی جتنی ابو بکرنے کی ہے۔لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اے لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے۔خدا کی