اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 474

ب بدر جلد 3 474 حضرت علی سے پہلے کبھی آنحضرت صلی اللہ کم سے کوئی مشورہ نہ لیا تھا مگر جب یہ حکم نازل ہوا تو حضرت علی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ رقم بطور صدقہ پیش کر کے عرض کیا کہ میں کچھ مشورہ لینا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الگ جا کر حضرت علی سے باتیں کیں۔کسی دوسرے صحابی نے حضرت علی سے دریافت کیا کہ کیا بات تھی جس کے متعلق آپ نے مشورہ لیا؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ کوئی خاص بات تو مشورہ طلب نہ تھی مگر میں نے چاہا کہ قرآن کریم کے اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔942" یہ تھے صحابہ کے طریق۔ایک جگہ یہ واقعہ اس طرح بھی ملتا ہے کہ ایک صحابی لوگوں کے گھروں میں جایا کرتے تھے کہ قرآن کریم کا یہ جو حکم ہے کہ اگر تمہیں کوئی گھر والا کہے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس جاؤ۔کہتے ہیں میں نے کئی دفعہ کوشش کی بلکہ بعض دفعہ روزانہ کوشش کی، کسی نہ کسی گھر میں جاتا کہ کوئی مجھے کہے کہ واپس چلے جاؤ اور میں خوشی خوشی واپس آجاؤں تا کہ قرآن کریم کے حکم کی تعمیل ہو جائے لیکن میری یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی۔کسی گھر والے نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا کہ واپس چلے جاؤ۔943 944 66 آج کل اگر ہم کسی کو کہیں کہ مصروف ہیں، واپس چلے جاؤ یا ملاقات نہیں ہو سکتی تو لوگ بر امان جاتے ہیں لیکن صحابہ کا تقویٰ یہ تھا کوشش کرتے تھے کہ قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کریں۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا ہم نے ایک دفعہ کسی غرض کے لئے صحابہ سے چندہ مانگا۔حضرت علی باہر گئے گھاس کاٹا اور اسے بیچ کر جو قیمت ملی وہ چندہ میں دے دی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک دفعہ واقعات بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ غالباً اپنے درس میں بیان فرمایا تھا کہ حضرت علامہ عبید اللہ صاحب بسمل ایک چوٹی کے شیعہ عالم تھے۔اتنے بزرگ اور اتنے علم میں گہرے اور متبحر کہ جب یہ احمدی ہو گئے تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ہی نہیں بعد میں پارٹیشن تک، پارٹیشن کے بعد بھی ان کی بعض کتب ابھی تک تدریس کے طور پر شیعہ مدرسوں میں پڑھائی جارہی ہیں کیونکہ مجھے یاد ہے خلیفتہ المسیح الرابع کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شیعہ دوست میرے پاس گفتگو کے لیے آئے جب میں وقف جدید میں ہوتا تھا تو گفتگو کے بعد انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور اللہ کے فضل سے احمدی ہو گئے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے بتایا کہ میں پہلے آپ کو بتایا نہیں کرتا تھا۔پہلے وہ ایک شیعہ عالم تھے ، ان کا مجھے عہدہ یاد نہیں مگر وہ شیخو پورہ کے کسی گاؤں یا فیصل آباد کے کسی گاؤں، ان کے بازو کے علاقے کے تھے کہیں کے ، انہوں نے بتایا کہ میں شیعوں میں یہ مرتبہ رکھتا ہوں، عالم ہوں۔یعنی کہ یہ جو آدمی جنہوں نے بیعت کی ان کے بارے میں خلیفہ رابع بتارہے ہیں کہ وہ شیعہ عالم تھے۔اور (وہ کہتے ہیں ) میں عالم ہوں اور شیعوں میں کافی مر تبہ رکھتا ہوں لیکن آج میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ ابھی تک عبید اللہ صاحب مسمل کی کتب ہمارے مدرسوں