اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 435

اصحاب بدر جلد 3 435 حضرت علی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ کو تکلیف پہنچاؤں۔آپ نے فرمایا: کیوں نہیں جس نے علی گو اذیت دی تو اس نے مجھے اذیت دی۔یہ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے۔858 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں۔یہ روایت جو میں نے پہلے پڑھی ہے وہ مسند کی ہے۔انگلی ایک روایت یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ ایک موقع پر لوگوں نے حضرت علی کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی للی کم ہم میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے۔میں نے آپ صلی اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اے لوگو ! تم علی کی شکایت نہ کرو۔خدا کی قسم ! وہ اللہ کی ذات کے بارے میں بہت ڈرنے والا ہے یا فرمایا وہ اللہ کے رستے میں بہت ڈرنے والا ہے اس بات سے کہ اس کی شکایت کی جائے۔859 آنحضرت علی اہل علم کی آخری بیماری میں آپ کی خدمت آنحضرت صلی اللہ کم کی آخری بیماری میں آپ کی خدمت کا ذکر اس طرح ملتا ہے۔بخاری میں روایت ہے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں کہ جب نبی صلی للی کم بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ نے اپنی ازواج سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپ کی تیمارداری کی جائے تو آپ کو انہوں نے اجازت دے دی۔اس پر آپ دو آدمیوں کے درمیان نکلے۔آپ کے پاؤں زمین پر لکیر ڈال رہے تھے اور آپ حضرت عباس اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے یعنی حضرت عائشہ کے گھر میں ہی تھے اور وہیں سے آپ مسجد جانے کے لیے دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر آئے۔عبید اللہ نے کہا کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن عباس سے کیا جو حضرت عائشہ نے کہی تھی تو انہوں نے کہا کیا تم جانتے ہو وہ کون آدمی تھے جس کا حضرت عائشہ نے نام لیا تھا؟ میں نے کہا نہیں۔ایک تو حضرت عباس تھے جن کا حضرت عائشہ نے نام لیا تھا اور دوسرے آدمی جس کا نام نہیں لیا تھا انہوں نے کہا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب تھے۔حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب رسول اللہ صلی علیم کے پاس سے آپ کی اس بیماری کے دوران جس میں آپ فوت ہوئے باہر نکلے۔لوگوں نے پوچھا اے ابو الحسن ! آج صبح رسول اللہ صلی علیہ کم کی طبیعت کیسی ہے ؟ انہوں نے کہا الحمد للہ۔آج صبح آپ کی طبیعت اچھی ہے۔اس پر حضرت عباس بن عبد المطلب نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور کہا اللہ کی قسم ! تم تین دن کے بعد کسی اور کے ماتحت ہو جاؤ گے کیونکہ بخدا میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی العلم اپنی اس بیماری میں جلد فوت ہو جائیں گے کیونکہ موت کے وقت بنو عبد المطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔آؤ ہم رسول اللہ صلی این نیم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھیں کہ یہ معاملہ ( یعنی خلافت) کن میں ہو گی ؟ اگر ہمارے میں ہوئی تو ہمیں علم ہو جائے گا اور اگر یہ ہمارے علاوہ 860