اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 434
اصحاب بدر جلد 3 434 حضرت علی گئے تھے۔اس وجہ سے وہ گھبر اکر رسول کریم صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ مجھے بھی لے چلیں۔آپ نے تسلی دی اور فرمایا۔اَلا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنَى مَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسَى إِلَّا أَنَّهَ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِى یعنی اے علی! تمہیں مجھ سے ہارون اور موسیٰ کی نسبت حاصل ہے۔ایک دن ہارون کی طرح تم بھی میرے خلیفہ ہو گے لیکن باوجود اس نسبت کے تم نبی نہ ہو گے۔حضرت علی میمن کی طرف 85566 آنحضرت صلی الم کا حضرت علی کو یمن کی طرف بھیجنے کے بارے میں آتا ہے کہ دس ہجری میں رسول اللہ صلی الم نے حضرت علی کو یمن کی طرف بھیجوایا۔اس سے قبل رسول اللہ صلی الم نے حضرت خالد بن ولید کو ان کی طرف بھیجا کہ وہ ان کو اسلام کی طرف بلائیں ، یعنی یمن والوں کی طرف، لیکن ان لوگوں نے انکار کر دیا پھر اس پر آپ نے حضرت علی کو بھیجا۔حضرت علی نے اہل یمن کو آپ صلی علیہ کمر کا خط پڑھ کر سنایا۔پھر پورے ہمدان نے ایک ہی دن میں اسلام قبول کر لیا۔حضرت علی نے ان کے قبول اسلام کے متعلق آنحضرت صلی علی نظم کو خط لکھا تو آپ صلی اللہ ہم نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا کہ ہمدان پر سلامتی ہو۔ہمدان یمن میں مدینہ کے جنوب مشرق میں مدینہ سے تقریباً ساڑھے گیارہ سو کلو میٹر دور واقع ایک شہر ہے۔پھر اس کے بعد اہل یمن نے بھی اسلام قبول کر لیا اور حضرت علی نے اس کے متعلق آپ صلی ہیں تم کو لکھا۔اس پر آپ صلی میں تم نے سجدہ شکر ادا کیا۔856 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں اور میں نوجوان ہوں اور مجھے قضا کا کوئی علم بھی نہیں تو صلی الم نے فرمایا: یقینا اللہ تیرے دل کو ضرور ہدایت دے گا اور تیری زبان کو ثبات بخشے گا۔پس جب تیرے سامنے دو جھگڑا کرنے والے بیٹھیں تو فیصلہ نہ کرنا یہاں تک کہ تو دوسرے سے بھی سن لے جیسا کہ تو نے پہلے سے سنا۔ایسا کرنا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تیرے لیے فیصلہ واضح ہو جائے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی شک پیدا نہیں ہوا۔857 حضرت عمرو بن شاس آسلمی جو صلح حدیبیہ کے شاملین میں سے تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ ہوا۔سفر کے دوران انہوں نے میرے ساتھ سختی کی یہاں تک کہ میں اپنے دل میں ان کے بارے میں کچھ محسوس کرنے لگا۔پس جب میں یمن سے واپس آیا تو میں نے ان کے خلاف مسجد میں شکایت کی یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ صلی ال تم تک پہنچ گئی۔ایک دن میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی الی یم اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔جب آپ کی نظر مجھ پر پڑی تو آپ نے مجھے غور سے دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی علیہم نے مجھے تیز نظر سے دیکھا یہاں تک کہ جب میں بیٹھا تو آپ نے فرمایا: اے عمر و! خدا کی قسم ! تو نے مجھے اذیت دی ہے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ کی