اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 433
تاب بدر جلد 3 433 حضرت علی 850 مدینہ بھجوانے کے لیے اونٹ پر بٹھایا تو حولیوٹ نے اس اونٹ کو گرادیا تھا۔حضرت علیؓ نے فتح مکہ کے موقع پر حویرث بن نُقید کو قتل کیا تھا جبکہ وہ بھاگنے کے لیے نکل چکا تھا۔10 غزوہ حنین جو شوال آٹھ ہجری میں ہوئی۔روایت میں آتا ہے کہ غزوہ حنین کے موقعے پر مہاجرین کا جھنڈ ا حضرت علی کے پاس تھا۔غزوہ حنین کے دوران جب گھمسان کی جنگ ہوئی اور کفار کے سخت حملے کی وجہ سے آپ کے گرد صرف چند صحابہ ہی رہ گئے تو ان چند صحابہ میں حضرت علی بھی شامل تھے۔851 غزوہ حنین میں مشرکوں کی صفوں کے آگے سرخ اونٹ پر سوار ایک شخص تھا جس کے ہاتھ میں ایک سیاہ پر چھم تھا۔پر پرچم ایک بہت لمبے نیزے سے باندھا گیا تھا۔بنو ہوازن کے لوگ اس شخص کے پیچھے تھے۔اگر کوئی شخص اس کی زد میں آجاتا تو وہ فوراً اس کو نیزہ مار دیتا اور اگر وہ اس کے نیزے کی زد سے بچ جاتا تو وہ اپنے پیچھے والوں کے لیے نیزہ اٹھا کر اشارہ کرتا اور وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے اور وہ سرخ اونٹ والے کے پیچھے رہتے۔یہ شخص اسی طرح حملے کرتا پھر رہا تھا کہ اچانک حضرت علی اور ایک انصاری شخص اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے قتل کرنے کے لیے بڑھے۔حضرت علی نے اس کی پشت کی طرف سے آکر اس کے اونٹ کے کولہوں پر وار کیا جس کے نتیجہ میں اونٹ الٹے منہ گرا۔اسی وقت اس انصاری شخص نے اس پر چھلانگ لگائی اور ایسا سخت وار کیا کہ اس کی ٹانگ آدھی پنڈلی سے کٹ گئی۔اسی وقت مسلمانوں نے مشرکوں پر ایک سخت حملہ کر دیا۔852 853 سر یہ حضرت علی بطرف بنو کلی کے بارے میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی ا یکم نے حضرت علی کو ڈیڑھ سو افراد کے ہمراہ بنوکی کے بت فکس کو گرانے کے لیے روانہ فرمایا۔( بنوطی کا علاقہ مدینے کے شمال مشرق میں واقع تھا ) آپ نے اس سریہ کے لیے حضرت علی ہو ایک کالے رنگ کا بڑا جھنڈا اور سفید رنگ کا چھوٹا پر چم عطا فرمایا۔حضرت علی صبح کے وقت آل حاتم پر حملہ آور ہوئے اور ان کے بت فلس کو منہدم کر دیا۔حضرت علی بنو طی سے بہت سارا مالِ غنیمت اور قیدی لے کر مدینہ واپس آئے۔3 غزوہ تبوک جو ر جب 19 ہجری میں ہوا اس کے بارے میں روایت ہے جو مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال وتم تبوک کے لیے نکلے اور حضرت علی کو مدینہ میں اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔حضرت علی نے کہا: کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم خوش نہیں ہوتے کہ تمہارا مقام مجھ سے وہی ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔854 حضرت مصلح موعودؓ اس واقعہ کو بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی یکم ایک دفعہ جنگ پر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے قائمقام بنا گئے۔پیچھے صرف منافق ہی منافق رہ