اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 420

حاب بدر جلد 3 420 حضرت علی 824<< جاتی ہے انہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشا ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو ہم سوئے رہتے ہیں اور اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔حضرت مصلح موعودؓ اس واقعے کو مزید کھول کے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقعے پر جبکہ حضرت علی نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلے کا طر پایا جاتا تھا تو بجائے اس کے کہ آپ صلی الی یکم ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی غالباً اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزہ اٹھاتے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھایا ہو گا وہ تو انہی کا حق تھا۔اب بھی آنحضرت صلی علیہ یکم کے اس اظہار ناپسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک باریک بین نظر محو حیرت ہو جاتی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔بخاری کی روایت ہے۔کہ نبی کریم صلی علیہ کی ایک رات میرے اور فاطمتہ الزہرا کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ صلی الی یکم کی صاحبزادی تھیں اور فرمایا کہ کیا تم تہجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے ؟ میں نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ! ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے۔آپ اس بات کو سن کر لوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا۔پھر میں نے آپ سے سنا اور آپ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے تھے کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔اللہ اللہ ، کس لطیف طرز سے حضرت علی کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔کوئی اور ہو تا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رتبہ کو دیکھو پھر اپنے جواب کو دیکھو۔کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو رڈ کر دو۔یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔وہ جس طرح چاہے کرواتا ہے۔چاہے نماز کی توفیق دے چاہے نہ دے۔اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔لیکن آپ نے ان دونوں طریقوں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے ، نہ بحث کر کے حضرت علی کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح حیرت کا اظہار کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے۔حقیقت میں آپ صلی علیہ کم کا اتنا کہہ دینا ایسے ایسے منافع اپنے اندر رکھتا تھا کہ جس کا عشر عشیر بھی کسی اور کی سو بحثوں سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس حدیث سے ہمیں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن سے آنحضرت صلی الم کے اخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور اسی جگہ ان کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دین داری کا کس قدر خیال تھا کہ رات کے وقت پھر کر اپنے قریبیوں کا خیال رکھتے تھے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو خود تو نیک ہوتے ہیں، لوگوں کو بھی نیکی کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ان کے گھر کا حال خراب ہوتا ہے اور ان میں یہ مادہ نہیں ہو تا کہ اپنے گھر کے