اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 409

تاب بدر جلد 3 409 حضرت علی حضرت علی کی اس قربانی کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے یوں فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ : "رسول کریم صلی علیم نے گھر سے نکلتے وقت حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹا دیا تھا۔( چارپائی کا رواج ان دنوں نہیں تھا بلکہ اب تک بھی مکہ میں چارپائی کا عام رواج نہیں۔بعض روایات میں غلطی سے یوں بیان ہوا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو اپنی چارپائی پر لٹا دیا بستر بنایا جاتا تھا با قاعدہ چار پائی نہیں ہوتی تھی ”جب رسول کریم صلی الیہ ہم رات کے وقت ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے آپ کو دیکھا بھی مگر انہوں نے خیال کر لیا کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو شاید آپ سے ملنے کے لیے آیا ہو گا اور اب واپس جارہا ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نہایت دلیری کے ساتھ باہر نکلے تھے اور آپ کی طبیعت پر ذرا بھی خوف نہیں تھا۔انہوں نے سمجھا کہ اتنی دلیری سے آپ اس وقت باہر نکلنے کی جرات کہاں کر سکتے ہیں۔یہ ضرور کوئی اور آدمی ہے جو آپ سے ملنے کے لیے آیا ہو گا۔اس کے بعد انہوں نے دروازہ کی دراڑ “ دروازے کی درز ”میں سے اندر جھانکا یہ اطمینان کرنے کے لیے کہ کہیں آپ باہر تو نہیں نکل گئے تو انہوں نے ایک آدمی کو سویا ہوا دیکھا اور خیال کیا کہ یہی رسول کریم صلی اللہ کم ہیں۔ها سة غرض ساری رات وہ آپ کے مکان کا پہرہ دیتے رہے پھر جب مناسب وقت سمجھا تو اندر داخل ہوئے اور شاید انہیں جسم سے شک پڑ گیا کہ یہ جسم آنحضرت صلی علیم کا نہیں۔انہوں نے منہ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا یا شاید منہ نگا تھا بہر حال انہیں معلوم ہوا کہ سونے والے شخص حضرت علی نہیں۔رسول کریم صلی ا کم نہیں۔تب انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی الیکم سلامتی کے ساتھ جاچکے ہیں اور ان کے لیے اب سوائے ناکامی کے کچھ باقی نہیں رہا۔800❝ حضرت علی ہو یہ عظیم الشان قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائی ایک اور جگہ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کو یہ عظیم الشان قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائی کہ جب رسول کریم صلی علیم نے ہجرت کے لیے رات کے وقت اپنے گھر سے نکلنا چاہا تو آپ صلی المیہ ہم نے حضرت علیؓ سے فرمایا تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ تا کہ کفار اگر جھانک کر دیکھیں تو انہیں یہ دکھائی دیتا ر ہے کہ کوئی شخص بستر پر سو رہا ہے اور وہ تعاقب کے لیے ادھر ادھر نہ نکلیں۔اس وقت حضرت علی نے یہ نہیں کہا کہ یا رسول اللہ ! مکان کے ارد گرد تو قریش کے چنیدہ نوجوان ہاتھ میں تلوار لیے کھڑے ہیں۔اگر صبح کو انہیں معلوم ہوا کہ آپ کہیں باہر تشریف لے جاچکے ہیں تو وہ مجھ پر حملہ کر کے مجھے قتل کر دیں گے بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ یعنی حضرت علی بڑے اطمینان کے ساتھ رسول کریم صلی اللی نم کے بستر پر لیٹ گئے اور آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال دی۔جب صبح ہوئی اور قریش نے دیکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللی کم کے بجائے حضرت علی آپ کے بستر سے اٹھے ہیں تو وہ اپنی ناکامی پر دانت پیس کر رہ گئے اور انہوں نے حضرت علی کو پکڑ کر مارا پیٹا مگر اس سے کیا بن سکتا تھا۔