اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 405

اب بدر جلد 3 405 حضرت علی ہے کہ اہل کوفہ اور عراق کا صاع آٹھ مڈ کا ہو تا تھا یعنی چار سیر کا یا ساڑھے چار سیر کا لیکن بہر حال بہت تھوڑی مقدار۔جتنا بھی ہو اڑھائی سیر ہو یا چار سیر ہو خاندان کے افراد کو بلانا تھا، دعوت کرنی تھی اس کے لیے کھانا تیار کرنا تھا۔اور ہمارے لیے ایک بڑا پیالہ دودھ کا تیار کرو۔پھر بنو عبد المطلب کو جمع کرو۔حضرت علی کہتے ہیں میں نے ایسا ہی کیا۔وہ سب جمع ہوئے۔کوئی چالیس افراد تھے۔ایک زیادہ یا ایک کم تھا۔ان میں آپ کے چا ابو طالب اور حمزہ اور عباس اور ابو لہب بھی تھے۔میں نے ان کے سامنے کھانے کا وہ بڑا بر تن پیش کیا تو رسول اللہ صلی للی کرم نے اس میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا اپنے دانتوں سے اسے کاٹا۔پھر اس پیالے کے اطراف میں اسے برکت دینے کی خاطر بکھیر دیا اور فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔لوگوں نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔اللہ کی قسم ! میں نے ان سب کے لیے جو پیش کیا تھا وہ صرف ایک آدمی کھا سکتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا لو گوں کو پلاؤ۔چنانچہ میں دودھ کا وہ پیالہ لایا۔انہوں نے پیا یہاں تک کہ سب کے سب سیر ہو گئے۔اللہ کی قسم ! ان میں سے صرف ایک شخص سارا پی سکتا تھا۔پھر جب رسول اللہ صلی العلیم نے ارادہ فرمایا کہ حاضرین سے بات کریں تو ابو لہب نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا اور کہا دیکھو !تمہارے ساتھی نے تم پر کیسا جادو کیا ہے ! پھر وہ لوگ منتشر ہو گئے اور رسول اللہ صلی علیکم ان سے بات نہ کر سکے۔اگلے روز آپ نے فرمایا۔اے علی ! جو کھانا اور مشروب تم نے کل تیار کیا تھا ویسا ہی تیار کرو۔میں نے ایسا ہی کیا۔پھر میں نے ان لوگوں کو جمع کیا۔رسول اللہ صلی الم نے ایسے ہی کیا جیسا کہ کل کیا تھا یعنی کھانے کو برکت بخشی تھی۔پھر ان لوگوں نے کھایا اور پیا یہاں تک کہ خوب سیر ہو گئے۔پھر رسول اللہ صلی علی یکم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب ! میں عرب کے کسی نوجوان کو نہیں جانتا جو اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر بات لے کر آیا ہو جو میں تمہارے لیے لایا ہوں۔میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کا معاملہ لے کر آیا ہوں۔پھر فرمایا اس پر کون میری مدد کرے گا؟ حضرت علی کہتے ہیں اس پر سب لوگ خاموش رہے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! باوجود اس کے کہ میں ان سب میں کم عمر ہوں میں آپ کا مددگار ہوں گا۔792 سیرت خاتم النبیین میں اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ آنحضرت صلی الم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو اور اس میں بنو عبد المطلب کو بلاؤ تاکہ اس ذریعہ سے ان تک پیغام حق پہنچایا جاوے۔چنانچہ حضرت علی نے دعوت کا انتظام کیا اور آپ نے اپنے سب قریبی رشتہ داروں کو جو اس وقت کم و بیش چالیس نفوس تھے اس دعوت میں بلایا۔جب وہ کھانا کھا چکے تو آپ نے کچھ تقریر شروع کرنی چاہی مگر بد بخت ابو لہب نے کچھ ایسی بات کہہ دی جس سے سب لوگ منتشر ہو گئے۔اس پر آنحضرت صلی ا ہم نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ موقع تو جا تا رہا۔اب پھر دعوت کا انتظام کرو۔چنانچہ آپ کے رشتہ دار پھر جمع ہوئے اور آپ نے انہیں یوں مخاطب کیا کہ اے بنو عبد المطلب ! دیکھو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس