اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 404

اصحاب بدر جلد 3 404 حضرت علی حضرت ابو طالب کی حمایت تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ جب نماز کا وقت ہوتا تو رسول کریم صلی الی یکم مکہ کی گھاٹیوں کی طرف چلے جاتے اور حضرت علی بھی آپ کے چچا ابو طالب اور دیگر چچاؤں اور تمام قوم سے چھپ کر آپ کے ساتھ ہو لیتے اور دونوں وہاں نماز ادا کرتے۔شام کو واپس تشریف لے آتے۔یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔پھر ایک دن ابو طالب نے ان دونوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور رسول اللہ صلی الم سے پوچھا کہ اے میرے بھتیجے ! یہ کون سا دین ہے جس کی پیروی کرتے ہوئے میں آپ کو دیکھ رہا ہوں۔آپ صلی میں ہم نے فرمایا: اے میرے چا یہ اللہ کا دین ہے اور اس کے فرشتوں کا دین ہے اور اس کے رسولوں کا دین ہے اور ہمارے باپ حضرت ابراہیم کا دین ہے۔یا اس سے ملتا جلتا کچھ فرمایا۔نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مجھے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے اور اے چا تو اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہے کہ میں تجھے اس کی نصیحت کروں اور تجھے اس ہدایت کی طرف بلاؤں اور تو اس بات کا زیادہ سزاوار ہے کہ مجھے قبول کرے اور میری مدد کرے یا اس طرح کی بات فرمائی۔اس پر ابو طالب نے کہا اے میرے بھتیجے ! میں اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے دین اور جس پر وہ تھے اس کو چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن اللہ کی قسم ! میں جب تک زندہ ہوں تمہیں کوئی ایسی چیز نہیں پہنچے گی جسے تو نا پسند کرتا ہو۔790 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس واقعے کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ”ایک دفعہ آنحضرت صلی علیکم اور حضرت علی مکہ کی کسی گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک اس طرف سے ابوطالب کا گذر ہوا۔ابو طالب کو ابھی تک اسلام کی کوئی خبر نہ تھی۔اس لیے وہ کھڑا ہو کر نہایت حیرت سے یہ نظارہ دیکھتا رہا۔جب آپ نماز ختم کر چکے تو اس نے پوچھا بھیجے ! یہ کیا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے ؟ آنحضرت صلی علیکم نے فرمایا۔چا! یہ دین الہی اور دین ابراہیم ہے اور آپ نے ابو طالب کو مختصر طور پر اسلام کی دعوت دی لیکن ابو طالب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں اپنے باپ دادا کا مذہب نہیں چھوڑ سکتا مگر ساتھ ہی اپنے بیٹے حضرت علی کی طرف مخاطب ہو کر بولا۔ہاں بیٹا تم بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ دو کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ تم کو سوائے نیکی کے اور کسی طرف نہیں بلائے گا۔7914 قریبی رشتہ داروں کو تبلیغ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق نبی کریم صلی علیکم کا اپنے اقرباء کو ڈرانے کا ذکر ایک جگہ یوں ملتا ہے۔حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علی تم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وَ انْذِرُ کم پر عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (اشعر 215:1) اور تُو اپنے اہل خاندان یعنی اقربا کو ڈرا۔آپ نے فرمایا اے علی ! ہمارے لیے ایک صاع کھانے کے ساتھ بکری کی ران تیار کرو اور ایک روایت میں صاع کے بجائے مذ کا لفظ ملتا ہے۔ایک صاع چار مڈ کا تھا یعنی کچھ کم اڑھائی سیر وزن میں یا اڑھائی کلو کہہ سکتے ہیں اور یہاں یہ بھی لکھا