اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 390

حاب بدر جلد 3 390 حضرت عثمان بن عفان ” اور دنیا کی نگاہیں انہی کی طرف اٹھتی ہیں۔اس وقت طائف کے بھی اور نجد کے بھی اور مکہ کے بھی اور یمن کے بھی اور دوسرے علاقوں کے بھی اکثر لوگ مدینہ میں آتے جاتے تھے اور مدینہ کے مہاجر و انصار سے ملتے اور دین سیکھتے تھے اور اسی طرح سب ملک کی علمی زبان ایک ہوتی جاتی تھی۔پھر کچھ ان لوگوں میں سے مدینہ میں ہی آکر بس گئے تھے۔ان کی زبان تو گویا بالکل ہی حجازی ہو گئی تھی۔یہ لوگ جب اپنے وطنوں کو جاتے ہوں گے تو چونکہ یہ علماء اور استاد ہوتے تھے یقیناً ان کے علاقہ پر ان کے جانے کی وجہ سے بھی ضرور اثر پڑتا تھا۔علاوہ ازیں جنگوں کی وجہ سے عرب کے مختلف قبائل کو اکٹھارہنے کا موقعہ ملتا تھا اور افسر چونکہ اکابر صحابہ ہوتے تھے ان کی صحبت اور ان کی نقل کی طبعی خواہش بھی زبان میں یک رنگی پیدا کرتی تھی۔پس گوابتدامیں تو لوگوں کو قرآن کریم کی زبان سمجھنے میں دقتیں پیش آتی ہوں گی مگر مدینہ کے دارالحکومت بننے کے بعد جب تمام عرب کا مرکز مدینہ منورہ بن گیا اور قبائل اور اقوام نے بار بار وہاں آنا شروع کر دیا تو پھر اس اختلاف کا کوئی امکان نہ رہا۔کیونکہ اس وقت تمام علمی مذاق کے لوگ قرآنی زبان سے پوری طرح واقف ہو چکے تھے۔چنانچہ جب لوگ اچھی طرح واقف ہو گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ آئندہ صرف حجازی قراءت پڑھی جائے۔اور کوئی قراءت پڑھنے کی اجازت نہیں۔آپ کے اس حکم کا مطلب یہی تھا کہ اب لوگ حجازی زبان کو عام طور پر جاننے لگ گئے ہیں اس لئے کوئی جہ نہیں کہ انہیں حجازی عربی کے الفاظ کا بدل استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔حضرت عثمان کے اس حکم کی وجہ سے ہی شیعہ لوگ جو سنیوں کے مخالف ہیں کہا کرتے ہیں کہ موجودہ قرآن بیاض عثمانی ہے حالانکہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک عربوں کے میل جول پر ایک لمبا عرصہ گذر چکا تھا اور وہ آپس کے میل جول کی وجہ سے ایک دوسرے کی زبانوں کے فرق سے پوری طرح آگاہ ہو چکے تھے۔اس وقت اس بات کی کوئی ضروت نہیں تھی کہ قراء توں میں بھی لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی اجازت دی جاتی۔یہ اجازت محض وقتی طور پر تھی اور اس ضرورت کے ماتحت تھی کہ ابتدائی زمانہ تھا، قو میں متفرق تھیں اور زبان کے معمولی معمولی فرق کی وجہ سے الفاظ کے معانی بھی تبدیل ہو جاتے تھے۔اس نقص کی وجہ سے عارضی طور پر بعض الفاظ کو جو ان قبائل میں رائج تھے اصل وحی کے بدل کے طور پر خدا تعالیٰ کی وحی کے مطابق پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ قرآن کریم کے احکام کے سمجھنے اور اس کی تعلیم سے روشناس ہونے میں کسی قسم کی روک حائل نہ ہو اور ہر زبان والا اپنی زبان کے محاورات میں اس کے احکام کو سمجھ سکے اور اپنے لہجہ کے مطابق پڑھ سکے۔جب میں سال کا عرصہ اس اجازت پر گزر گیا۔زمانہ ایک نئی شکل اختیار کر گیا۔قومیں ایک نیارنگ اختیار کر گئیں۔وہ عرب جو متفرق قبائل پر مشتمل تھا ایک زبر دست قوم بلکہ ایک زبر دست حکومت بن گیا۔آئین ملک کا نفاذ اور نظام تعلیم کا اجرا ان کے ہاتھ میں آگیا۔مناصب کی ان کے اختیار میں آگئی۔حدود اور قصاص کے احکام کا اجرا انہوں نے شروع کر دیا تو اس کے بعد اصلی