اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 385

محاب بدر جلد 3 385 حضرت عثمان بن عفان حق میں ایسی دعا کرتے ہوئے نہ پہلے کبھی سنا اور نہ بعد میں، اور وہ دعا یہ تھی اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُم افعل بعثمان۔اے اللہ ! عثمان کو بہت عطا فرما۔اے اللہ ! عثمان پر اپنا فضل و کرم نازل فرما۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے گوشت دیکھ کر فرمایا یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کیا حضرت عثمان نے۔آپ کہتی ہیں کہ اس پر میں نے رسول اللہ صلی علیکم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر عثمان کے لیے دعا کرتے دیکھا۔محمد بن ہلال اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی دادی حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھیں جبکہ آپ گھر میں محصور کر دیے گئے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ ان کی دادی کے ہاں بیٹا پید اہوا جس کا نام ہلال رکھا گیا۔جب ایک روز حضرت عثمان نے انہیں موجود نہ پایا تو پوچھنے پر آپ کو معلوم ہوا 746 745 کہ آج رات ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔میری دادی کہتی ہیں کہ اس پر حضرت عثمان نے میری طرف پچاس درہم اور ایک بڑی چادر میں سے ٹکڑا بھجوایا اور فرمایا تیرے بیٹے کا وظیفہ ہے اور یہ اس کے پہننے کے لیے کپڑا ہے۔جب اس کی عمر ایک سال ہو جائے گی تو ہم اس کا وظیفہ بڑھا کر سو درہم کر دیں گے۔ابن سعید بن يزبوع بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار دو پہر کے وقت گھر سے نکلا جبکہ میں بچہ تھا۔میرے پاس ایک پرندہ تھا جسے میں مسجد میں اڑا رہا تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک خوبصورت چہرے والے بزرگ لیٹے ہوئے ہیں۔ان کے سر کے نیچے اینٹ یا اینٹ کا کوئی ٹکڑا تھا۔تکیہ کی جگہ اینٹ رکھی ہوئی تھی۔میں کھڑا ہو کر ان کی خوبصورتی کو تعجب سے دیکھنے لگا۔انہوں نے اپنی آنکھیں کھول کر مجھ سے چھا۔اے بچے تم کون ہو ؟ میں نے اپنے متعلق بتایا تو انہوں نے قریب ہی سوئے ہوئے ایک لڑکے کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔اس پر انہوں نے مجھے کہا کہ اسے بلا کر لاؤ۔چنانچہ میں اسے بلا لایا۔اس بزرگ نے اسے کچھ لانے کا حکم دیا اور مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔پھر وہ لڑکا چلا گیا اور ایک پوشاک اور ایک ہزار درہم لے کر آیا۔انہوں نے میر الباس اتروایا اور اس کی جگہ مجھے وہ پوشاک پہنادی اور وہ ایک ہزار درہم اس پوشاک میں ڈال دیے۔جب میں اپنے والد کے پاس پہنچا تو انہیں یہ سب کچھ بتایا۔اس پر انہوں نے کہا کہ اے میرے بیٹے ! کیا تجھے علم ہے کہ کس نے تیرے ساتھ ایسا سلوک کیا؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم سوائے اس کے کہ وہ کوئی ایسا شخص تھا جو مسجد میں سو رہا تھا اور اس سے بڑھ کر حسین میں نے کبھی زندگی میں کسی کو نہیں دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں۔747 ابن جریر روایت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ حضرت عثمانؓ سے اس وقت ملے جبکہ آپ مسجد کی طرف جارہے تھے۔حضرت طلحہ نے کہا آپ کے پچاس ہزار درہم جو میرے ذمہ تھے وہ اب میسر آگئے ہیں۔آپ انہیں وصول کرنے کے لیے کسی شخص کو میری طرف بھیج دیں۔اس پر حضرت عثمان نے ان