اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 384

ب بدر جلد 3 384 حضرت عثمان بن عفان آپ منبر پر تھے کہ اے عثمان ! آپ نے اس امت کو ایک بہت ہی مشکل معاملے میں ڈال دیا۔آپ نے خطاب فرمایا۔کچھ باتیں کیں، کچھ تنبیہ کی امت کو۔پس آپ تو بہ کریں اور وہ بھی آپ کے ساتھ تو بہ کریں۔اللہ کا بڑا خوف دلایا تھا تو اس پر ایک صحابی نے یہ عرض کر دی۔742 راوی کہتے ہیں اس پر آپ نے اسی وقت اپنا چہرہ قبلہ رخ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔اَللهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ کہ اے اللہ ! یقینا میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف جھکتا ہوں۔اور اس موقع پر موجود لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی۔یہ اللہ تعالیٰ سے خوف اور خشیت اور آپ کی عاجزی کا مقام ہے کہ فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔کسی بحث میں نہیں پڑے۔اپنے لیے دعا کی، امت کے لیے دعا کی۔سخاوت اور فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں روایات ملتی ہیں۔حضرت عثمان خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس چیزیں اپنے رب کے حضور چھپا کے رکھی ہوئی ہیں۔میں سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے چوتھا شخص ہوں۔نہ میں نے کبھی لہو ولعب والے گانے سنے اور نہ کبھی جھوٹی بات کی ہے اور جب سے میں نے رسول اللہ صلی علیم کی بیعت کی ہے تب سے میں نے اپنی شرمگاہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں چھوا اور اسلام قبول کرنے کے بعد مجھ پر کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا جس میں میں نے کوئی گردن آزاد نہ کی ہو ماسوائے اس جمعہ کے کہ جس میں میرے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام نہ ہو۔اس صورت میں میں جمعہ کے علاوہ کسی اور دن میں غلام آزاد کر دیتا تھا اور میں نے نہ زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی اسلام میں۔3 حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر کے 744 743 محاصرہ کے دوران ہمیں غلام آزاد کیے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی نیلم کے ساتھ ایک جنگ میں تھے کہ لوگوں کو بھوک کی تکلیف آ پہنچی یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی اور منافقین کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے۔جب رسول اللہ صلی علیہم نے یہ کیفیت دیکھی تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! سورج غروب نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے رزق کے سامان فرما دے گا۔حضرت عثمان کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول بالکل سچ فرماتے ہیں۔چنانچہ آپ نے چودہ اونٹ غلہ سمیت خریدے اور ان میں سے نو نبی صلی کم کی خدمت میں بھجوادیے۔رسول اللہ صلی اللی یکم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ حضرت عثمان نے یہ آپ کی طرف ہدیہ ارسال کیے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیم کے چہرے پر خوشی اور مسرت پھیل گئی اور منافقوں کے چہروں پر بے چینی اور پریشانی چھا گئی۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی علیم نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی اور آپ نے حضرت عثمان کے لیے دعا کی۔میں نے نبی کریم صلی این کم کو کسی اور کے الله