اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 383

اصحاب بدر جلد 3 383 حضرت عثمان بن عفان تعالیٰ کی صفت کریم کے بیان میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم ہے۔فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الی کم کا ایک واقعہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کریم سے شرم کی جاتی ہے۔کریم جو صفت ہے جس میں ہو اُس سے شرم کی جاتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی ال یکم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی ٹانگوں کا کچھ حصہ نگا تھا کہ حضرت ابو بکر آئے اور بیٹھ گئے۔پھر حضرت عمر آئے اور بیٹھ گئے مگر آپ نے کوئی پروانہ کی۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت عثمان نے دستک دے دی۔آپ فوراً اٹھ بیٹھے اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانک لیا اور فرمایا عثمان بہت شرمیلا ہے۔اس کے سامنے ٹانگ کا کچھ حصہ ننگا رکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں (پہلے بیان بھی ہوئے ہیں ) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی لی لیکر گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا۔اسی حالت میں ابو بکر نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ اسی طرح لیٹے رہے اور آپ نے اجازت دے دی، ان سے گفتگو فرماتے رہے۔پھر عمر آئے۔انہوں نے اجازت طلب کی۔آپ نے اجازت دے دی اور صا الله سة اسی طرح لیٹے رہے۔(لیٹے ہوئے تھے یا بیٹھے ہوئے تھے) پھر تھوڑی دیر بعد عثمان آئے تو نبی کریم صلی املی کیم اٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے کو درست کر لیا اور ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔جب سب چلے گئے تو حضرت عائشہ نے نبی کریم صلی العلیم سے سوال کیا کہ یارسول الله ؟ ابو بکر آئے اور عمر آئے تو آپ نے ان کی آمد پر خاص پروانہ کی اور اسی طرح لیٹے رہے جیسے لیٹے تھے لیکن عثمان کی آمد پر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے ٹھیک کر لیے۔آپ نے جواب دیا اے عائشہ ! کیا میں اس سے شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں۔تو دیکھو رسول اللہ صلی للی کم نے عثمان کی شرم کا لحاظ کیا کہ وہ لوگوں سے شرماتے تھے۔آپ ان سے شرمائے یعنی حضرت عثمان لوگوں سے شرماتے تھے اس لیے آنحضرت صلی یکم ان سے شرمائے۔اس واقعہ کو بیان کر کے آپ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کریم ہونے سے لو گوں کو گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔حیا کرنی چاہیے اس کی بات ماننی چاہیے۔نہ یہ کہ گناہوں پر جرآت پیدا ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے کرم کر دے گا۔ہمارے گناہوں کے باوجود ہم پر کرم کر دے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی صفت کریم ہے تو پھر بندے کو بھی حیا کرنی چاہیے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔740 تواضع اور سادگی کے بارے میں آتا ہے۔عبد اللہ رومی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رات کے وضو کا خود انتظام کرتے تھے۔آپؐ سے عرض کی گئی کہ اگر آپ کسی خادم کو حکم دیں تو وہ آپ کے لیے انتظام کر دیا کرے۔اس پر آپ نے فرمایا: نہیں، رات تو ان لوگوں کی ہے جس میں یہ آرام کرتے ہیں۔741 یعنی کہ کام کرنے والے خدمت گزاروں کو رات کو آرام کرنے کے لیے وقت دینا چاہیے۔علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عثمان سے عرض کیا جبکہ