اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 379

صحاب بدر جلد 3 379 حضرت عثمان بن عفان کرواتے اور پھر جب نماز کا وقت آجاتا تو ان کے ساتھ نماز ادا کرتے اور پھر کبھی کبھی وہیں سو بھی جایا کرتے تھے۔حضرت عثمان نے مسجد نبوی کو جنوب میں قبلہ کی جانب وسعت دی اور اس کی قبلہ کی دیوار کو اس جگہ تک لے آئے جہاں کہ آج تک ہے۔شمالی جانب اس میں پچاس ذرع، تقریباً 25 میٹر کا اضافہ کیا گیا اور کچھ توسیع مغربی جانب بھی کروائی گئی۔البتہ شرقی جانب جہاں حجرات مبارکہ تھے کوئی توسیع نہیں کی گئی۔اس کے بعد مسجد نبوی کا کل رقبہ 160 × 150 ذرع یعنی تقریباً80×75 میٹر ہو گیا۔حضرت عثمان کے دور میں مسجد کے دروازوں کی تعداد چھ تھی۔پہلی مرتبہ مسجد نبوی میں پتھروں نقش و نگار بنوائے گئے۔اس میں سفیدی کروائی گئی۔حضرت خَارِجہ بن زید کے بیان کے مطابق حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی شرقی اور غربی دیواروں میں روشن دان رکھوائے تھے۔مسجد نبوی کی توسیع کے لیے حضرت عثمان کو جو مکان لینے پڑے ان میں ام المومنین حضرت حفصہ کا حجرہ بھی شامل تھا جن کو اس کا متبادل مکان دیوار قبلہ سے متصل جنوب مشرقی کونے پر دے دیا گیا تھا اور ایک دریچہ کے ذریعہ سے ان کی آمد ورفت حجرے تک ممکن اور آسان بنادی گئی تھی۔اس کے علاوہ حضرت جعفر بن ابو طالب کے ورثاء سے ان کے مکان کا نصف حصہ ایک لاکھ درہم کے عوض خریدا گیا اور اس طرح دار العباس کا کچھ حصہ خرید کر مسجد نبوی میں شامل کیا گیا تھا۔دیوار قبلہ کو جنوبی جانب لے جانے کے علاوہ سب سے نمایاں فرق جو کہ مسجد نبوی میں ہو ا وہ یہ تھا کہ محراب نبوی کی جگہ مقام قبلہ بھی اس کی سیدھ میں اتنا ہی آگے لے جانا پڑا جہاں تک دیوار قبلہ لے جائی گئی تھی جو عین اسی جگہ پر تھی جہاں آج کل ہم محراب عثمانی کو دیکھتے ہیں وہاں علامتی محراب بھی بنائی گئی تھی۔مٹی کے گارے کی جگہ انہوں نے پسا ہوا پتھر استعمال کروایا تھا اور پتھر سے بنے ہوئے ستون میں سیسے کی بنی سلاخیں ڈلوائی گئی تھیں۔اس بات کا خاص اہتمام رکھا گیا کہ نئے ستون انہی ستونوں کی جگہ استوار کیے جائیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں کھجور کے تنے سے بنے ہوئے ستون ہوا کرتے تھے۔تعمیر میں جو مواد اور طرز تعمیر استعمال ہو اوہ اسی طرح کا تھا جیسا کہ یروشلم میں گنبد صخرہ کی تعمیر میں باز نطینیوں نے استعمال کیا تھا۔چھت شیشم کی لکڑی سے بنائی گئی تھی جو کہ لکڑی کے شہتیروں پر رکھی گئی تھی جو سیسہ پلائے پتھروں کے ستونوں پر استوار تھے۔چونکہ حضرت عمر کی شہادت محراب نبوی میں نماز کی امامت کرواتے ہوئے ہوئی تھی، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آئندہ کوئی ایسا حادثہ رونما نہ ہو حضرت عثمانؓ نے محراب کے مقام پر ایک مقصورہ (مسجد میں صفوں سے آگے امام کے لیے کھڑا ہونے کی جگہ جس میں منبر بنا ہو تا ہے ) تعمیر کروایا جو کہ مٹی کی اینٹوں سے بنا تھا اور اس میں جھرو کے اور روزن رکھے گئے تھے تاکہ مقتدی اپنے امام کو دیکھ سکیں۔یہ پہلا حفاظتی طریقہ تھا جو کہ مسجد نبوی میں تعمیر ہو ا جو کہ بعد میں دمشق میں خلفائے بنو امیہ کے حفاظتی پروٹوکول کا با قاعدہ حصہ بن گیا تھا۔728 یعنی محراب کو دیوار بنا کے محفوظ کیا گیا تھا لیکن مقتدی امام