اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 378

اصحاب بدر جلد 3 378 حضرت عثمان بن عفان مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر نو میرے لیے ایک مثال اور نظیر ہے۔میں نے صائب الرائے اصحاب سے مشورہ کیا ہے اور ان سب کی متفقہ رائے یہی ہے کہ مسجد نبوی کو مسمار کر کے اسے دوبارہ بنایا جانا چاہیے۔جب حضرت عثمان نے مسجد کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا تو چند صحابہ کرام نے اس معاملے میں اپنے تحفظات پیش کیے۔ان کا خیال تھا گرانی نہیں چاہیے۔ان میں وہ صحابہ کرام شامل تھے جو بالکل مسجد نبوئی کے قریب مقیم تھے اور جن کے مکانات اس منصوبے سے متاثر ہوتے نظر آ رہے تھے۔عوام کی اکثریت نے تو اس منصوبے کی حمایت کی مگر چند صحابہ کرام نے اعتراض کیا۔حضرت أفلح بن حمید نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان نے چاہا کہ منبر پر تشریف لا کر لوگوں کی رائے معلوم کریں تو مروان بن حکم نے کہا بلا شبہ یہ ایک نیک کام ہے۔لہذا کیا ضرورت ہے کہ آپ لوگوں کی رائے معلوم کریں۔اس پر حضرت عثمان نے ان کی سرزنش کی اور سر زنش کرتے ہوئے فرمایا تیر ابھلا ہو میں کسی معاملے میں لوگوں پر جبر واکراہ کا قائل نہیں ہوں۔مجھے ان سے ضرور مشورہ کرنا ہے۔آپ نے فرمایا میں اپنی رائے کولوگوں پر مسلط کرنا نہیں چاہتا۔میں تو جو کام بھی کروں گا ان کی مرضی سے کروں گا۔پھر جب آپ نے اپنے منصوبے کے متعلق اہل الرائے اصحاب کو اعتماد میں لے لیا تو مسجد نبوی کی شمالی جانب واقع گھروں کو خرید کر ان کی زمین حاصل کی۔اگر چہ آپ نے معاوضہ کے طور پر ان اصحاب کو کافی رقوم پیش کی تھیں مگر پھر بھی چند اصحاب اپنے مکانات دینے کے حق میں نہ تھے اور تقریباً چار سال گزر گئے مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی۔حضرت عبید اللہ جولائی سے مروی ہے کہ جب لوگ اپنے مکانات دینے کے لیے پس و پیش کر رہے تھے اور دلائل طوالت پکڑتے جارہے تھے تو میں نے حضرت عثمان کو کہتے ہوئے سنا تم لوگ بہت باتیں بنا چکے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مسجد کی تعمیر کرے گا اللہ تعالیٰ اجر میں اس کے لیے ایسا ہی محل جنت میں تعمیر کروائے گا۔اسی طرح حضرت محمود بن لبیڈ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی تعمیر نو کا ارادہ کیا تو لوگوں کو ان کا منصوبہ پسند نہ آیا۔ان کا اصرار تھا کہ مسجد نبوی کو اسی حالت میں رہنے دیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھی۔اس پر آپ نے فرمایا جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مسجد تعمیر کرے گا اللہ تعالیٰ اجر میں اس کے لیے ایسا ہی محل جنت میں تعمیر کروائے گا۔جب حضرت عثمان لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ نے ماہ ربیع الاول 129 ہجری، نومبر 649ء میں کام کی ابتدا کروا دی۔تعمیر نو کے کام میں صرف دس ماہ صرف ہوئے اور یوں یکم محرم 130 ہجری کو مسجد نبوی تیار ہو گئی۔آپ بنفس نفیس کام کی نگرانی فرماتے تھے۔دن کے وقت ہمیشہ روزہ رکھتے اور رات کے وقت اگر نیند مجبور کرتی تو مسجد نبوی میں ہی ستالیا کرتے تھے۔حضرت عبد الرحمن بن سَفِينَہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے مصالحہ اٹھا اٹھا کر حضرت عثمان غنی کے پاس لایا جاتا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ ہمیشہ اپنے پاؤں پر کھڑے کھڑے کاریگروں سے کام