اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 336

صحاب بدر جلد 3 336 حضرت عثمان بن عفان سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی الی کی ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپ صلی میں کم ان سے راضی تھے اور انہوں نے حضرت علی، حضرت عثمانؓ، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا نام لیا اور کہا عبد اللہ بن عمر تمہارے ساتھ شریک رہے گا اور اس خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔یہ روایت پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں۔اس لیے یہاں مختصر بیان کر تاہوں۔بہر حال حضرت عمر کی وفات کے بعد جب ان کی تدفین سے فراغت ہوئی تو وہ آدمی جمع ہوئے جن کا نام حضرت عمرؓ نے لیا تھا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا اپنا معاملہ اپنے میں سے تین آدمیوں کے سپر د کر دو۔حضرت زبیر نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت علی کو دیا اور حضرت طلحہ نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت عثمان کو دیا اور حضرت سعد نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دیا۔حضرت عبد الرحمن نے حضرت علیؓ اور حضرت عثمان سے کہا آپ دونوں میں سے جو بھی اس امر سے دستبردار ہو گا ہم اسی کے حوالے اس معاملے کو کر دیں گے اور اللہ اور اسلام اس کا نگران ہو گا یعنی انتخاب خلافت کا معاملہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔ان میں سے اسی کو تجویز کرے گا جو اس کے نزدیک افضل ہے۔اس بات نے دونوں بزرگوں کو خاموش کر دیا۔پھر حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ کیا آپ اس معاملے کو میرے سپرد کرتے ہیں اور اللہ میر انگران ہے کہ جو آپ میں سے افضل ہے اس کو تجویز کرنے کے متعلق کوئی بھی کمی نہیں کروں گا۔پھر یہی ہے کہ میرے سپر د کر دو۔اب اس کمیٹی کی جو صدارت ہے وہ پھر میرے سپرد ہو جائے گی۔پہلے تو ان دونوں سے کہا کہ کسی ایک کو صدر بنا دیا جائے۔انہوں نے کہا وہ علیحدہ نہیں ہوتے، دستبردار نہیں ہوتے تو انہوں نے کہا اچھا پھر میں اس معاملے سے دستبر دار ہوتا ہوں اور صدارت اس طرح ہو گی۔بہر حال انہوں نے کہا پھر میں جو فیصلہ کروں گا وہ انصاف سے کروں گا اور اللہ میرا نگران ہے۔ان دونوں نے کہا اچھا۔پھر عبد الرحمن ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کر الگ لے گئے اور کہنے لگے آپ کا آنحضرت صلی اللہ ظلم سے رشتہ کا تعلق ہے اور اسلام میں آپ کا جو مقام ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں۔اللہ آپ کا نگران ہے۔بتائیں اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو کیا آپ ضرور انصاف کریں گے ؟ اور اگر میں عثمان کو امیر بناؤں تو آپ اس کی بات سنیں گے اور ان کا حکم مانیں گے ؟ یعنی پہلے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر لے گئے۔ان سے پوچھا۔پھر حضرت عبد الرحمن دوسرے کو تنہائی میں نے گئے یعنی اب حضرت عثمان کی باری آئی اور ان سے بھی ویسے ہی کہا جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو پھر آپ نے حضرت عثمان کو کہا کہ آپ اپناہاتھ اٹھائیں اور انہوں نے ان سے بیعت کی اور حضرت علی نے بھی ان سے بیعت کی اور گھر والے اندر آگئے اور انہوں نے بھی ان سے بیعت کی۔650 حضرت مصلح موعودؓ حضرت عمرؓ کی وفات اور حضرت عثمان کے خلیفہ منتخب ہونے کی بابت بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب